فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 9909
پیدائش سے پہلے بچے کی جنس معلوم کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 08 February 2014 02:12 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ولادت سے قبل ماں کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی معلوم کرنے کی شریعت نے اجازت دی ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بچے کی جنس معلوم کرنے کے لیے جستجو پسندیدہ عمل نہیں ۔بچے کی جنس جو بھی ہو وہ دنیا میں آتا ہی رہے گا اور اگر جنس معلوم کرنے کے لیے ستر کھولنا پڑے تو یہ بالکل ہی ناجائز عمل ہے ،اس مقصد کے لیے ستر کھولنا کہ آلہ رکھ کر جنس معلوم کی جائے یہ جائز عمل نہیں ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ الٹرا ساؤنڈ کا نتیجہ اول تو سو فیصد درست نہیں ہوتا ، اس میں بہت ہی زیادہ معمولی طور پر غلطی کے امکانات بھی ہوتے ہیں ، اسی لیے بڑے ہسپتال الٹرا ساؤنڈ نہیں کرتے کہ اگر نتیجہ اسکے خلاف نکلا تو ہسپتال کی بدنامی ہوگی۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)