فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 9901
ڈاکٹر کا ٹائم لینے کے لئے پیسے دینے کا حکم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 08 February 2014 01:52 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آجکل جب کسی ڈاکٹر کاسے ٹائم لینا ہو تاکہ اس کو اپنا مریض دکھایا جا سکے ۔توٹوکن دینے والا ڈاکٹر کامنشی کہتا ہے کہ آج کا ٹوکن نہیں ملے گا۔آج ٹوکن لے جاو اور 5دن کے بعد باری آئیگی۔ لیکن اگر اس کو ٥٠٠روپے دے دئے جائیں تو وہ اسی دن کا ٹوکن دے دیتاہے۔مریض بیچارہ تو مجبور ہوتا ہے شرعی لحاظ سے یہ کیسا ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسا کرنے والے منشی کے لئے یہ جگا ٹیکس لگانا ناجائز اور حرام ہے ،اور میں نہیں سمجھتا کہ وہ یہ کام ڈاکٹر کی مرضی کے بغیر کرتا ہوگا۔لہذا ڈاکٹر اور منشی دونوں کو اللہ سے ڈرنا چاہئے اور لوگوں کے مالوں پر ناجائز ڈاکہ نہیں ڈالنا چاہئے۔باقی مریضوں کو بھی چاہئے کہ اس سلسلے میں ان کے خلاف کوئی مناسب آواز بلند کریں اور انہیں اس زبر دستی کی ڈکیتی سے روکیں۔لیکن اگر مریض زیادہ سیریس ہو اورلیٹ چیک اپ کی وجہ سے کسی ضرر یا جان جانے کا اندیشہ ہو تو مجبوری کی اس حالت میں ان کو یہ پیسے دینے سے آپ پر کوئی حرج نہیں ہو گا،کیونکہ آپ نے اضطراری حالت میں مجبورا یہ عمل کیا ہے ،جس میں آپ کی رضا اور مرضی شامل نہیں ہے۔اور پھر جان کی حفاظت کرنا بھی شرعی اعتبار سے فرض اور واجب ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)