فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 980
(02) جن مشرکین میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا وہ کس قسم کے مشرک تھے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 03 June 2012 10:17 AM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جن مشرکین میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا گیا تھا، وہ کس قسم کے شرک میں مبتلا تھے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

جن مشرکین میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا گیا تھا، وہ شرک فی الربوبیۃ میں مبتلا نہ تھے کیونکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف عبادت میں شرک کرتے تھے۔

جہاں تک ربوبیت کا تعلق ہے تو وہ اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ وحدہ ہی رب ہے، وہ مجبور ومضطر لوگوں کی دعا سنتا ہے اور وہی تکلیفوں کو دور کرتا ہے یہ اور اس طرح کی اور بھی بہت سی باتوں کے قائل تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ذکر فرمایا ہے کہ وہ اللہ عزوجل ہی کی ربوبیت کا اقرار کرتے تھے، البتہ وہ عبادت میں شرک کرتے تھے، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ وہ غیر اللہ کی بھی عبادت کرتے تھے اور یہ ایک ایسا شرک ہے، جو انسان کو ملت اسلامیہ کے دائرے سے خارج کر دیتا ہے کیونکہ توحید اپنے لفظ کی دلالت کے اعتبار سے کسی چیز کو واحد قرار دینے سے عبارت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات پاک کے کئی حقوق ہیں۔ ان حقوق کو صرف اسی کی ذات گرامی کے لیے خاص کرنا واجب ہے۔ ان حقوق کی درج ذیل تین اقسام ہیں:

(۱)حقوق ملک            (۲)حقوق عبادت                       (۳)حقوق اسماء وصفات

یہی وجہ ہے کہ علماء نے توحید کو بھی تین قسموں میں تقسیم کیا ہے:

 (۱)توحید ربوبیت       (۲)توحید اسماء و صفات           اور (۳)توحید عبادت۔

مشرکین نے اس آخری قسم توحید عبادت میں شرک کیا تھا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ ساتھ غیر اللہ کی پوجا بھی کرتے تھے جب کہ اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے:

﴿وَٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَلَا تُشۡرِكُواْ بِهِۦ شَيۡ‍ٔٗاۖ﴾--النساء:36

’’اور اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ۔‘‘

یعنی اس کی عبادت میں کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ۔ اور فرمایا:

﴿إِنَّهُۥ مَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدۡ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ ٱلۡجَنَّةَ وَمَأۡوَىٰهُ ٱلنَّارُۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنۡ أَنصَارٖ﴾--المائدة:72

’’بلاشبہ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے گا، اللہ اس پر جنت کو حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔‘‘

اور فرمایا:

﴿إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ﴾--النساء:48

’’بلا شبہ اللہ اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا دوسرے گناہوں کو جسے چاہے معاف کر دے گا۔‘‘

مزید ارشاد ہے:

﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ٱدۡعُونِيٓ أَسۡتَجِبۡ لَكُمۡۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِي سَيَدۡخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ﴾--الغافر:60

’’اور تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری (دعا) قبول کروں گا۔ بلا شبہ جو لوگ میری عبادت سے سرکشی (تکبر) کرتے ہیں وہ عنقریب جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ نے سورئہ اخلاص میں فرمایا ہے:

﴿قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ - لَآ أَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُونَ - وَلَآ أَنتُمۡ عَٰبِدُونَ مَآ أَعۡبُدُ - وَلَآ أَنَا۠ عَابِدٞ مَّا عَبَدتُّمۡ - وَلَآ أَنتُمۡ عَٰبِدُونَ مَآ أَعۡبُدُ - لَكُمۡ دِينُكُمۡ وَلِيَ دِينِ﴾--الکافرون: 1-6

’’اے پیغمبر (ان منکرین اسلام سے) کہہ دو کہ اے کافرو! جن (بتوں) کو تم پوجتے ہو، ان کو میں نہیں پوجتا اور جس (اللہ) کی میں عبادت کرتا ہوں، اس کی تم عبادت نہیں کرتے اور (میں پھر کہتا ہوں کہ) جن کی تم پرستش کرتے ہو، ان کی میں پرستش کرنے والا نہیں ہوں اور نہ تم اس کی بندگی کرنے والے معلوم ہوتے ہو جس کی میں بندگی کرتا ہوں، تم اپنے دین پر، میں اپنے دین پر۔‘‘

میں نے اس سورت کو جو ’’سورۃ الاخلاص‘‘ کہا ہے تو اس سے اخلاص عمل مراد ہے کیونکہ دراصل یہ سورت اخلاص عمل کے نام موسوم کی جانی چاہئے اگرچہ اسے ’’سورۃ الکافرون‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے لیکن حقیقت میں یہ عملی طور پر یہ سوئہ اخلاص ہی ہے جیسے سورئہ ﴿قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ﴾ علمی طورپر اخلاص اور عقیدہ کے معانی ومفاہیم پر مشتمل ہے لہٰذاسوئہ کافروں اخلاص عملی سے عبارت ہے اور سورئہ ﴿قل ھواللہ أحد﴾ اخلاص علمی اور عقائدی کا پرتوہے۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ ارکان اسلام

عقائد کے مسائل صفحہ 31

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)