فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 9794
(264) عورت کا اپنے الگ کمرہ میں سونا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 02 February 2014 09:35 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا عورت کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے الگ اور مخصوص کمرے میں سوئے یعنی شوہر کے شرعی حقوق ادا کرنے سے تو اسے انکار نہیں ہے صرف سونے کے لئے وہ الگ کمرہ استعمال کر تی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ شوہر راضی ہو اور کمرہ محفوظ ہو اور اگر شوہر اس پر راضی نہ ہو تو پھر عوررت کو الگ سونے کا حق حاصل نہیں ہے کیونکہ یہ عرف کے خلاف ہے الا یہ کہ بوقت نکاح ایسی شرط لگائی جائے جبکہ کسی سبب کی وجہ سے وہ اس بات کو پسند نہ کرتی ہو کہ کوئی اس کے پاس سوئے تو مسلمانوں کو اپنی شرطوں کو پورا کرنا چاہیے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص253

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)