فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 9784
(254) منع حمل مخصوص حالات ہی میں جائز ہے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 01 February 2014 01:59 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک مرد نے ایک عورت سے اس کے پہلے شوہر کے انتقال کے بعد شادی کی جبکہ اس کی ایک شیر خوار بچی بھی ہے تو کیا اس عورت کے لئے دوسرے شوہر کی موافقت کے بغیر مکمل ایک سال تک گولیوں کا استعمال جائز ہے تاکہ اسے حمل قرار نہ پا سکے جبکہ اس کی صحت بھی اچھی ہے اور حمل میں کوئی امر مانع نہیں ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تحدید نسل مطلقاً حرام ہے کیونکہ شریعت میں تبتل(ازدواجی زندگی سے فرار) سے سختی سے منع کیا گیا ہے اور محبت کرنے والی اور زیادہ بچوں کو جنم دینے والی عورت سے شادی کرنے کی ترغیب دی گئی ہے لہٰذا مخصوص انفرادی حالات کے سوا عام حالات میں مانع حمل گولیوں کا استعمال حرام ہے، مثلاً اگر عورت عام معمول کے مطابق بچے کو جنم نہ دے سکتی ہو بلکہ ہر بچے کی پیدائش کے وقت وہ آپریشن کروانے کے لئے مجبور یا کسی بیماری کی وجہ سیظ عورت کے لئے حمل خطرناک ہو تو ایسی صورتوں میں مانع حمل گولیوں کا استعمال جائز ہے لیکن سوال میں مذکورہ حالت ایسی نہیں ہے ۔ لہٰذا اس عورت کے لئے گولیوں کا استعمال ناجائز ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص216

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)