فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 9772
(242) دعوتی کارڈوں پر بسم اللہ لکھنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 01 February 2014 12:55 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

شادی کے دعوتی کارڈوں پر بسم اللہ لکھنے کے بارے میں کیا حکم ہے جبکہ عموماً انہیں پڑھنے کے بعد سڑکوں یا ردی کی ٹوکریوں میں پھینک دیا جاتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دعوتی کارڈوں اور دیگر خطوط وغیرہ میں بسم اللہ لکھنا شروع ہے کیونکہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:

 ((كل أمر ذي بال لايبدأ ببسم الله الرحمن الرحيم فهو أبتر )) (إرواء الغليل )

’’ہر وہ کام جس کو بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع نہ کیا جائے وہ بے برکت ہے‘‘۔

اور اس لیے بھی کہ رسول اللہﷺ اپنے مکتوبات و رسائل کو بسم اللہ ہی سے شروع فرمایا کرتے تھے لیکن جس شخص کو کوئی ایسا کارڈ یا خط ملے جس میں بسم اللہ یا قرآن مجید کی کوئی آیت ہو‘ اس کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ اسے کوڑے میں یا ردی کی ٹوکریوں میں پھینکے یا کسی ناپسندیدہ جگہ پر رکھے۔ اسی طرح اخبارات و جرائد کی بے حرمتی کرنا‘ انہیں کوڑے میں پھینکنا کھانے کیلئے دسترخوان کے طور پر بچھانا لفافوں وغیرہ کے طور پر استعمال کرنا بھی جائز نہیں کیونکہ ان میں بھی کہیں نہ کہیں اللہ کا نام ہوتا ہے جو شخص اس طرح کرے گا وہ گناہگار ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا نام لکھنے والے کو کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہر طرح کی خیرو بھلائی کی توفیق بخشے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص205

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)