فتاویٰ جات: تعلیم وتعلم
فتویٰ نمبر : 9728
(198) ’’القواعد‘‘ سے مراد بوڑھی عورتیں ہیں……
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 29 January 2014 02:37 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے چچا کی بیوی قاعدہ ہے (کوئی کام نہیں کرتی اور گھر میں بیٹھی رہتی ہے) تو کیا اس کے لئے میرے سامنے اپنے چہرے کو ننگا کرنا جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس سوال کا جواب درج ذیل ارشاد باری تعالیٰ کی روشنی میں دیا جائے گا۔

﴿وَالقَو‌ٰعِدُ مِنَ النِّساءِ الّـٰتى لا يَر‌جونَ نِكاحًا فَلَيسَ عَلَيهِنَّ جُناحٌ أَن يَضَعنَ ثِيابَهُنَّ غَيرَ‌ مُتَبَرِّ‌جـٰتٍ بِزينَةٍ ۖ وَأَن يَستَعفِفنَ خَيرٌ‌ لَهُنَّ ۗ...﴿٦٠﴾... سورة النور

’’ اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی اور وہ کپڑے(برقعہ وغیرہ) اتار لیا کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ اپنی زینت کی چزیں نہ ظاہر کریں اور اگر اس سے بھی بچیں تو (یہ)ان کے حق میں بہتر ہے‘‘

اس آیت میں قواعد سے مراد بڑی عمر کی بوڑھی عورتیں ہیں یعنی جن کو اب نکاح کی توقع نہیں رہی تو ان ک یلئے کوئی حرج نہیں کہ وہ کپڑے (برقع یا وہ بڑی بڑی چادریں وغیرہ جو بطور برقع پہنی جاتی ہیں) اتار لیا کریں بشرطیکہ اپنی زینت کی چیزیں ظاہر نہ کریں۔ اس آیت سے مراد وہ عورت نہیں ہے جو جوان ہو اور کام کاج نہ کرتی ہو اور اس میں جو حکمت ہے وہ ظاہر ہے کہ وہ بوڑھی عورت جو شادی کے قابل نہ ہو اس کی طرف کوئی التفات نہ کرے گا اور نہ کوئی رغبت رکھے گا لہٰذا اس کی طرف دیکھنے میں فتنے کا کوئی خوف و خطرہ نہیں ہے

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص164

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)