فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 9660
(145) بانجھ پن کی دو قسمیں ہیں
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 22 January 2014 01:43 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جو شخص یہ کہتا ہے کہ بانجھ پن کا علاج ممکن ہے اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ تو فرماتا ہے:

﴿وَيَجعَلُ مَن يَشاءُ عَقيمًا...﴿٥٠﴾... سورة الشورىٰ

’’اور جس کو چاہتا ہے بے اولاد رکھتا ہے۔‘‘


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہماری رائے میں بانجھ پن کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جو کسی سبب کی وجہ سے ہو تو اس کا علاج ممکن ہے اور دوسری جو طبعی ہو یعنی اللہ تعالیٰ نے پیدائشی بانجھ کیا ہو تو اس کا علاج ممکن نہیں ہے اور اگر علاج کیا بھی جائے تو وہ کارگر ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہی یہ ہوتا ہے کہ یہ بانجھ رہے اور اللہ تعالیٰ کے ارادے کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص123

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)