فتاویٰ جات: تعلیم وتعلم
فتویٰ نمبر : 9655
(140) مخلوط اداروں میں تدریس
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 22 January 2014 12:54 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا وہ استاد جو کسی ایسے ادارے میں پڑھائے جہاں مخلوط تعلیم ہو یا وہ صرف لڑکیوں کو پڑھائے مگر وہ بالغ ہوں تو کیا وہ ان کی طرف دیکھنے کی وجہ سے گناہ گار ہو گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مرد کے لئے یہ واجب ہے کہ وہ عورتوں کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنی نگاہ نیچی کر لے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿قُل لِلمُؤمِنينَ يَغُضّوا مِن أَبصـٰرِ‌هِم وَيَحفَظوا فُر‌وجَهُم ۚ ذ‌ٰلِكَ أَزكىٰ لَهُم ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبيرٌ‌ بِما يَصنَعونَ ﴿٣٠﴾... سورة النور

’’ مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں۔ یہ ان کے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے (اور) جو کام یہ کرتے ہیں اللہ ان سے خبردار ہے۔‘‘

امام مسلم، ابو دائود ؒ اور کئی آئمہ نے جریربن عبداللہؓ سے روایت کیا ہے:

((سألت رسول الله ﷺ ، عن نظرة الفجاة فقال : اصرف بصرك )) (صحيح مسلم)

’’میں نے رسول اللہﷺ سے اچانک نظر پڑنے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا،’’اپنی نظر کو ہٹا لو۔‘‘ مردوں اور عورتوں کی مخلوط تعلیم جائز نہیں ہے کیونکہ یہ ان میں فحاشی پھیلانے کا ایک ذریعہ ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص119

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)