فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 963
قومے کی حالت میں فوت ہونے والا شخص
شروع از بتاریخ : 03 June 2012 09:24 AM

 

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کوئی قومے کی حالت میں چلا جائے اور بہت عرصے بعد اس کی موت اسی بیماری میں ہی واقع ہو جائے تو جتناعرصہ وہ قومے میں مبتلا رہے گا،اسے ثواب ملے گا یا گناہ؟ اور کیا اس کے انجام کا دارومدار اس کے قومے کی حالت میں جانے سے پہلے کی صورتحال پر ہو گا یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

روایات کے مطابق انسان حالت صحت میں جو اعمال کرتا ہے، اس کے لیے حالت مرض میں بھی ان اعمال جیسا اجر وثواب لکھا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں بیماری خود بھی گناہوں کے ازالے کا سبب ہے۔ مسند احمد کی ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ

’’ جب کوئی بندہ مومن بیمار ہو جاتا ہے تو اللہ تعالی فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ اس کےلیے ہر دن اور رات کے اعمال میں سےاتنا ہی اجر اور نیکیاں لکھو جتنی یہ عام دنوں میں کرتا تھا۔‘‘  (مسند احمد: 6856)

لہٰذا اگر کوئی شخص قومے میں رہنےکے بعد اسی حالت میں وفات پا جائے تو اس کےانجام کا دارو مدار قومے کی حالت میں جانے سے پہلے کی صورتحال ہی پر ہوگا۔

وبالله التوفيق

فتویٰ کمیٹی

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)