فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 9578
(63) موت کے بعد دعوتیں کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 21 January 2014 11:23 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض لوگ اپنے عزیز و اقارب کی وفات کے بعد دعوتیں کرتے اور ان کی طرف سے جانور ذبح کرتے ہیں اور ان دعوتوں اور گوشت کے لئے ذبح کئے جانے والے جانوروں کی قیمت متوفی کے مال سے ادا کی جاتی ہے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور اگر کسی میت نے اس طرح کی دعوتوں کے انعقاد کی وصیت کی ہو تو کیا وارثوں کے لئے اس وصیت پر عمل کرنا ضروری ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

وفات کے بعد اس طرح کی دعوتوں کے اہتمام کی وصیت کرنا بدعت اور عمل جاہلیت ہے، میت کے اہل خانہ کا وصیت کے بغیر بھی اس طرح کی دعوتوں کا اہتمام کرنا منکر اور ناجائز رہے کیونکہ جریر بن عبداللہ بجلیؓ سے یہ ثابت ہے:

((كنا نعداإجتماع إلى أهل الميت وصنيعة الطعام بعددفنه من النسياحة )) ( مسند احمد)

 ’’  ہم دفن کے بعد اہل میت کے ہاں اجتماع اور کھانے کے اہتمام کو بھی نوحہ شمار کرتے تھے۔‘‘

اسے امام احمدؒ نے اسناد حسن کے ساتھ روایت کیا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی شریعت نے تو یہ حکم دیا ہے کہ میت کے اہل خانہ کے لئے کھانا تیار کر کے ان کی دلجوئی کی جائے کیونکہ وہ غم اور صدمے میں مبتلا ہوتے ہیں تو اس موقع پر خود میت کے ا ہل خانہ کا کھانے کی دعوت کا اہتمام کرنا اس حکم شرعی کے بھی خلاف ہے، غزوہ موتہ میں حضرت جعفر بن ابی طالبؓ کے شہید ہونے کی جب خبر پہنچی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا:

((إصنعوا لآل جعفر طعاما فقدأتاهم ما يشغلهم )) ( سنن أبي داؤد)

 ’’ آل جعفر کے لئے کھانا تیار کرو کہ ان کے پاس ایک ایسی خبر آئی ہے جس نے انہیں غم میں مبتلا کردیا ہے۔‘‘

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص60

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)