فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 9563
(48) وصیت اور اس کی شرعی دلیل
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 21 January 2014 09:45 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا وصیت کو لکھنا واجب ہے؟ اس کے لئے گواہ لازم ہیں؟ مجھے وصیت کے بارے  میں شرعی دلیل معلوم نہیں، لہٰذا امید ہے رہنمائی فرمائیں گے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

وصیت کو اس طرح لکھا جائے:

میں زیر دستخطی یہ وصیت کرتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ  کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں اور حضرت عیسیؑ بھی اللہ کے بندے اور رسول اور اس کا کلمہ(بشارت) تھے جو اس نے مریم علیہ السلام کی طرف بھیجا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح تھے، اور جنت حق ہے، جنہم بھی حق ہے ، قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں اور اللہ تعالیٰ قبروں میں مدفون انسانوں کو زندہ کر کے نکالیں گے۔ میں اپنے بیوی بچوں اور دیگر تمام رشتہ داروں کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ اللہ کے تقویٰ کو اختیار کریں، باہم اصلاح کریں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں، حق و صبر کی ایک دوسرے کو وصیت کریں میں بھی انہیں وہی وصیت کرتا ہوں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو کی تھی اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے بھی اپنے فرزندوں سے کہا تھا:

﴿وَوَصّىٰ بِها إِبر‌ٰ‌هـۧمُ بَنيهِ وَيَعقوبُ يـٰبَنِىَّ إِنَّ اللَّهَ اصطَفىٰ لَكُمُ الدّينَ فَلا تَموتُنَّ إِلّا وَأَنتُم مُسلِمونَ .١٣٢﴾... سورة البقرة

’’اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لئے یہی دین پسند فرمایا ہے خبردار! تم مسلمان ہی مرنا۔‘‘

ان الفاظ کے بعد آدمی جو وصیت کرنا چاہتا ہو اسے ذکر کر دے جو اس کے مال کے تیسرے حصے یا اس سے کم کے بارے میں ہو یا کسی مال معین کے بارے میں لیکن وصیت کل مال کے ایک تہائی سے زیادہ حصے میں نہ کرے، اس کے بعد وصیت کئے ہوئے مال کے شرعی مصارف کو بھی واضح کر دے اور کسی کو وکیل بھی مقرر کردے جو ان مصارف پر مال وصیت کو خرچ کرے۔

وصیت واجب نہیں بلکہ مستحب ہے، اگر کسی چیز کے بارے میں وصیت کرنا چاہے تو کر سکتا ہے جیسا کہ صحیحین میں حضرت ابن عمرؓ نے نبیﷺ سے بیان کیا ہے:

((ما حق امرىء مسلم ، له شئء يريد أن يوصي فيه ، يبيت ليلتين، إلا ووصيته مكتوبة عنده)) ( صحيح البخاري)

’’ مسلمان آدمی جس چیز کے بارے میں وصیت کرنا چاہتا ہو تو اسے یہ حق حاصل نہیں ہے کہ دو راتیں بھی ایسی گزارے کہ وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔‘‘

اگر آدمی کے ذمہ قرض یا ایسے حقوق ہوں جو لکھے ہوئے نہ ہوں  تو پھر یہ واجب ہے کہ ان کے بارے میں وصیت  کرے تاکہ لوگوں کے حقوق ضائع نہ ہوں، وصیت پر دو عادل گواہوں کی گواہی بھی درج کرا لینی چاہیے نیز اسے قابل اعتماد اہل علم میں سے کسی سے لکھوانا چاہیے فقط اپنی تحریر پر اکتفا نہ کرے کیونکہ اسے ذمہ داروں کو انتباہ بھی ہو سکتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس کا خط پڑھنے والا کوئی ثقہ آدمی میسر نہ آ سکے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص51

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)