فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 9533
(17) اس کے پاس گیا لیکن اسے نہ پایا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 19 January 2014 11:39 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

چار سال پہلے میں نے اپنا گھر تعمیر کیا تو اس کی دیواروں کے لئے سنگ مرمر خریدا تھا جس شخص سے میں نے سنگ مرمر خریدا تھا اس کے پندرہ سو ریال میرے ذمے باقی تھے۔ کچھ مدت بعد جب میں بقیہ رقم ادا کرنے گیا تو میں نے ادارے کے پہلے مالک کو نہ پایا کیونکہ یہ ادارہ اب ایک نئے مالک کی تحویل میں آ گیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ یہ رقم اب میں پہلے مالک کو کس طرح ادا کروں، یاد رہے کہ میں نے سنگ مرمر اس ادارے کے ایک ملازم سے خریدا تھا براہ راست اس کے مالک سے نہیں اور نہ ہی میں اصل مالک کو پہچانتا ہوں کیونکہ میرا معاملہ ملازم ہی کے ساتھ تھا۔ میں نے اس مالک کے متعلق کئی بار پوچھا ہے لیکن مجھے کچھ معلوم نہیں ہو سکا لہٰذا میری رہنمائی فرمائیں کہ اس رقمم سے بری الذمہ ہونے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر آپ کو اس ادارے کا نام اور محل وقوع معلوم ہے تو اس کے مالک کے بارے میں مزید تلاش و جستجو کریں، شاید اس کے پڑوسیوں کو اس کا علم ہو اور اگر وہ آپ کو اس کا نام پتہ اور ٹیلی فون نمبر وغیرہ بتا دیں تو اس سے رابطہ قائمم کر کے اس کا حق اسے ادا کردیں تاکہ آپ بری الذمہ ہو جائیں اگر مزید جستجو اور تلاش بسیار کے باوجود آپ اسے نہ پا سکیں اور مقدور بھر کوشش کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہ لگا سکیں تو یہ رقم اس کی طرف سے اس شرط پر صدقہ کر دیں کہ اگر بعد میں وہ مل گیا تو اسے اختیار ہو گا اگر وہ اخروی ثواب پر راضی ہو جائے تو درست ورنہ آپ اس کی رقم اسے ادا کر یں گے اور صدقے کا ثواب آپ کو مل جائے گا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص32

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)