فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 9528
(12) جسے لقطہ ملے وہ کیا کرے؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 19 January 2014 11:04 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عالم فاضل آدمی کو دوران سفر راستہ میں کچھ نقدی ملی جس کا وہاں کوئی مالک نہ تھا، اب سوال یہ ہے کہ وہ شخص اس نقدی کا کیا کرے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس شخص پر لازم ہے کہ ان دوشہروں میں جو اس راستے پر واقع ہیں جہاں سے رقم ملی ہے نیز ان کے علاوہ دیگر ایسے شہر، جن کے باشندوں کے متعلق یہ گمان ہو کہ یہ رقم ان میں سے کسی کی ہو سکتی ہے۔ وہاں لوگوں کے مجمعوں میں اس رقم کا اعلان کرے۔

اگر ایک سال تک اعلان کرنے کے باوجود اس کا مالک نہ ملے تو لقطہ اٹھانے والا مالک بن جاتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ رقم اپنے پاس رکھے حتیٰ کہ اس کے مالک کو تلاش کر لے یا پھر اس کی طرف سے صدقہ کر دے، اگر صدقہ کرنے کے بعد مالک مل جائے تو اسے ساری بات بتا دے ، وہ صدقہ کرنے پر راضی ہو جائے تو بہت بہتر اور اگر وہ اس پر اعتراض کرے تو اتنی ہی رقم سے اسے اپنے پاس سے ادا کر دے اور وہ صدقہ اس کی طرف سے ہو جائے گا ، یا اسے اپنے دیگر مال کی طرح خرچ کر لے اور جب اس کے اصل مالک کا پتہ چل جائے تو اسے اپنی طرف سے ادا کردے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص29

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)