فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 9527
(11) جب لقطہ کا اعلان نہ کیا جائے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 19 January 2014 11:02 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مجھے کچھ ریال پڑے ہوئے ملے، میں نے وہ اٹھا کر استعمال کر لئے اب اس سلسلہ میں مجھ پر کیا لازم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ پر واجب تھا کہ آپ(ایک سال تک) ان کا اعلان کرتے، اگر آپ مکمل ایک سال تک ہر ماہ کم از کم دو یا تین بار یہ اعلان کریں کہ فلاں جگہ پر اگر کسی کے پیسے گم ہوئے ہوں تو وہ لے لے اور یہ اعلان لوگوں کے مجموں میں، جامع مسجدوں کے دروازوں پر یا بازاروں میں کریں اور اگر یہ اعلان کرتے ہوئے ایک سال گزر جائے تو ان کا استعمال آپ کے لئے حلال ہے اور جب ان کا مالک آ کر صحیح نشانی بتا دے تو آپ اسے دے دیجیئے کیونکہ آپ کے پاس تو یہ امانت ہے اور اگر آپ نے اس کا اعلان نہیں کیا بلکہ خاموشی سے خود کھا لئے ہیں تو پھر اتنے ریال ان کے مالک کی طرف سے نیت کر کے صدقہ کر دیں کیونکہ آپ نے وہ ذرائع اختیار نہیں کیے جن سے یہ حلال ہو جاتے اور وہ ان کا اعلان کرنا تھا ، امید ہے صدقہ کرنے سے ان شاء اللہ مالک کو ثواب مل جائے گا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص29

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)