فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 9523
چوتھے حصے پر گائیں پالنے کا حکم؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 19 January 2014 10:29 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے پاس 11،12 گائے اور ان کے بچھڑے بچھڑیاں ہیں۔ میں نے وہ سب سنبھالنے کی غرض سے ایک شخص کو چوتھے حصہ پر دے دیں۔ سارا خرچ مثلاچارہ توڑی اور ان کو گرمی سردی سے بچاو کے لیے شیڈ پانی چارہ کترنے کے لیے ضروری آلات وغیرہ سب میرا ہے۔ ان کو سنبھالنے کا 1/4 حصہ سنبھالنے والے کو دیتا ہوں۔۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ جائز ہے؟

1/4 حصہ بھی اس شکل میں دیتا ہوں کہ اس سے کچھ منہا نہیں کرتا مثال کے طور پر میں نے 25000 کی گاے خریدی سال بعد اس نے بچہ دیا گاے فروخت ہوی ایک لاکھ کی۔۔ میں پورے ایک لاکھ سے 1/4 جو 25000 بنتا ہے اسکو سنبھالنے والے کو دیتا ہوں یا گاے کی بچھڑی جوان ہوی اس سے ان کی اگے نسل بڑھی تو اس کی جتنی بھی قیمت لگے گی اسکا چوتھای حصہ ان کی دیکھ بھال کرنے والے کو دیتا ہوں۔۔ یعنی میں اس گاے کی خرید والی رقم بھی منہا نہیں کرتا۔ دوسرا یہ کہ گائےکا دودھ وغیرہ بھی اسکو سنبھالنے والا ہی اپنے مصرف میں لاتا ہے، براہ کرم اس کا جواب عنایت کریں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت مسئولہ میں بظاہر تو کوئی قباحت نظر نہیں آتی ،جس کی بنیاد پر اسے غلط کہا جاسکے ،لہذا آپ کا یہ طریقہ کار درست ہے ،لیکن بہتر ہے کہ آپ اس معاہدے کو لکھ لیا کریں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)