فتاویٰ جات: اجتماعی نظام
فتویٰ نمبر : 9489
ملازمین کا کمیٹی ڈالنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 16 January 2014 11:35 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اساتذہ کی ایک جماعت ہر مہینے کے آخر میں جمع ہو کر اپنی تنخواہ میں سے کچھ مال جمع کر کے ایک شخص کو دے دیتی ہے اور دوسرے مہینے کسی اور شخص کو حتیٰ کہ تمام اساتذہ اپنی اس طرح ادا کی ہوئی رقم وصول کر لیتے ہیں۔ اس کو بعض لوگ کمیٹی کے نام سے موسوم کرتے ہیں تو اس کے بارے میں حکم شریعت کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ قرض ہے اور اس میں کسی کے لیے بھی زائد نفع کی کوئی شرط نہیں ہے۔ کبار علماء کی کونسل نے بھی کثرت رائے سے اسے جائز قرار دیا ہے کیونکہ اس میں بغیر نقصان کے سب کی مصلحت ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج2 ص536

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)