فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 9458
تعزیت کے مروجہ طریقے کا حکم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 16 January 2014 09:13 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے علاقے میں جب فوتگی ہوتی ہے تو بعد از جنازہ ورثاء میت تین دن تک حجرے میں بیٹھتے ہیں اور لوگ آتے رہتے ہیں اور ہر ایک آنے پر اور پھر رخصت ہونے پر دعاء کرنے کا کہتے ہیں۔(کہ ایک اجتماعی دعاء کریں گے)۔اسی طرح آنے والے حضرات اپنے ساتھ چائے وغیرہ بھی لاتے ہیں تو وہاں چائے کادور بھی چلتا رہتا ہے اور لوگ آکر دعاء بھی کرتے ہیں۔علاقے کے بعض علماء کرام اور دین دار طبقہ کہتے ہیں کہ اسی طرح تعزیت خلاف سنت ہے اور بدعت کاقول کرتے ہیں۔اور بعض کہتے ہیں کہ ہم اس کو دین نہیں سمجھتے بلکہ ہمارے علاقے میں یہی تعزیت کا طریقہ رائج ہے اس کے علاوہ اور طریقے سے تعزیت تسلیم نہیں کیا جاتا۔تو اب مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:

٭کیا اس طرح تین دن تعزیت کیلئے بیٹھنا شریعت میں جائز ہے؟

٭لوگوں کا اس طرح آتے اور جاتے وقت دعاء کا آواز لگانا کیسا ہے؟

٭ چائے وغیرہ کا یہ دور چلانا کیسا ہے؟

٭اور جو لوگ اس طریقے کو خلاف سنت کہتے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟

٭مسجد میں تعزیت اور دعاء کیلئے بیٹھنا کیسا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تعزیت کرنے کے لئے تین دن تک بیٹھنے کا مروجہ طریقہ نبی کریم سے ثابت نہیں ہے ،جب بیٹھنے کا یہ طریقہ ہی ثابت نہیں ہے اور بدعت ہے تو اس سے متعلقہ تمام امور بھی غلط ثابت ہوں گے۔لہذا تین دن تک اہتمام سے بیٹھنا،دعا کرنا اور دیگر تمام امور غلط ہونگے۔

 تفصیل کے لئے فتوی نمبر(8682) پر کلک کریں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)