فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 9456
فتاوی میں اختلاف کی صورت میں عوام کیا کریں؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 16 January 2014 09:03 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

فتاوی میں اختلاف کی صورت میں عوام کیا کریں؟ ازراہِ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں ۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

فتاوی میں اختلاف کی صورت میں عوام کو خود بھی کچھ تحقیق کرنی چاہئے اور قرآن وسنت کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔عوام اگرچہ خود تحقیق کے قابل نہیں ہوتے لیکن کم از کم اتنا تو کر سکتے ہیں کہ اپنے قریبی علماء سے قرآن کی آیت یا حدیث کو دیکھ کر اس کا ترجمہ ہی کروا لیں۔اور پھر جس اہل علم کا فتوی قرآن وحدیث کے قریب ترین دیکھیں اس پر عمل کر لیں۔

ارشاد باری تعالی ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّهَ وَأَطيعُوا الرَّ‌سولَ وَأُولِى الأَمرِ‌ مِنكُم ۖ فَإِن تَنـٰزَعتُم فى شَىءٍ فَرُ‌دّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّ‌سولِ إِن كُنتُم تُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ‌ ۚ ذ‌ٰلِكَ خَيرٌ‌ وَأَحسَنُ تَأويلًا ﴿٥٩﴾... سورة النساء

’’اے ایمان والو! اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی اطاعت کرو اور رسول کریمﷺ کی کرو اور اولی الامر (امراء یا اہل علم) کی بھی، پس اگر تمہارا کسی شے میں تنازع ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹادو اگر تم اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو، یہ زیادہ بہتر اور نتیجہ کے اعتبار سے زیادہ اچھا ہے۔‘‘

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)