فتاویٰ جات: معاملات
فتویٰ نمبر : 9299
مجاہدین کی امداد
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 06 January 2014 10:27 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرا اپنے چند دوستوں کے ساتھ اس بات پر جھگڑا ہوا کہ عمرہ افضل ہے یا مجاہدین کی امداد؟ دراصل ہم نے رمضان کے آخر میں عمرہ کی نیت کی، یاد رہے میں اور میرا ایک دوست پہلے بھی کئی بار عمرہ کر چکے ہیں، بالآخر میرا یہ دوست کہنے لگا کہ وہ عمرہ نہیں کرے گا بلکہ عمرہ پر خرچ ہونے والی اس رقم کو صدقہ کر دے گا یا جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کے لیےافغان مجاہدین کو دے دے گا کیونکہ عمرہ کرنے سے یہ افضل ہے۔ امید ہے آپ رہنمائی فرمائیں گے کیا اس کے لیے یہ افضل ہے کہ عمرہ کرے جبکہ پہلے بھی کئی عمرے کر چکا ہے یا عمرہ کے ان اخراجات کو جہاد فی سبیل اللہ کے لیے افغان مجاہدین کو دے دے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جو شخص پہلے فریضہ حج اور عمرہ ادا کر چکا ہو تو اس کے لیے افضل یہ ہے کہ نفل حج اور عمرہ کے اخراجات کو مجاہدین فی سبیل اللہ مثلا افغان مجاہدین پر خرچ کر دے کیونکہ شرعی جہاد نفل حج اور عمرہ سے افضل ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے "جب یہ سوال پوچھا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے تو آپ نے فرمایا تھا:

(ايمان بالله ورسوله‘ قيل ثم اي؟ قال: الجهاد في سبيل الله‘ قيل ثم اي؟ قال: حج مبرور) (صحيح البخاري‘ الايمان‘ باب من قال ان الايمان هو العمل‘ ح: 26 وصحيح مسلم‘ الايمان‘ باب بيان كون الايمان بالله تعاليٰ افضل الاعمال‘ ح: 83)

"اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان" پھر عرض کیا گیا اس کے بعد؟ تو آپ نے فرمایا: "جہاد فی سبیل اللہ" عرض کیا گیا پھر کون سا عمل افضل ہے؟ فرمایا "حج مبرور۔"

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)