فتاویٰ جات: گوشئہ اطفال
فتویٰ نمبر : 91
بچوں کو سمجھانے کے لیے جھوٹ بولنا
شروع از بتاریخ : 17 October 2011 04:49 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ہم بچوں کو جو ضدی ہوتے ہیں ان کو سمجھانے کے لئے جھوٹ بول سکتے ہیں  حدیث کے حوالے سے جواب دیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسند احمد کی ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ

«من قال لصبی تعال ھاک ثم لم یعطه فھی کذبة»۹۶۲۵

جس نے کسی بچے سے کہا کہ ادھر آو یہ لے لو اور پھر اسے وہ نہ دیا جس کے لیے اس نے اسے بلایا تھا تو یہ بھی ایک جھوٹ ہے۔

اس روایت کو شیخ شعیب ارنووط نے شیخین کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔

اور جھوٹ کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)