فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 9061
نسیان پر مؤاخذہ نہیں
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 25 December 2013 10:45 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک مسلمان نے عمرے کا احرام باندھا اس کی عادت یہ ہے کہ وہ سوچ بچار کے وقت اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا رہتا ہے، بھول کر حالت احرام میں بھی اس نے جب ایسا ہی کیا تو اس کے کئی بال گر گئے تو کیا اس صورت میں کوئی کفارہ ہو گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس پر کوئی کفارہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ دعا یہ کرتے ہیں:

﴿رَ‌بَّنا لا تُؤاخِذنا إِن نَسينا أَو أَخطَأنا...٢٨٦﴾... سورة البقرة

"اے ہمارے رب! اگر ہم سے بھول یا چوک ہو گئی ہو تو ہم سے مؤاخذہ نہ کرنا۔"

اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی اس دعا کو شرف قبولیت سے نواز دیا ہے صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس دعا کے جواب میں فرمایا:

(قد فعلت) (صحيح مسلم‘ الايمان‘ باب بيان تجاوز الله...الخ‘ ح: 126)

"میں نے یہ کر دیا۔" (یعنی میں مؤاخذہ نہیں کروں گا۔)

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)