فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8845
تکفیر کے اصول
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 19 December 2013 09:49 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا بریلوی کافر،ابدی جہنمی،امت محمدیہ اور دائرہ اسلام سےخارج ہیں کیونکہ بریلوی شرک اکبر کےمرتکب ہیں چاہے ان پرحجت قائم ہویانہ ہوکیونکہ مسائل ظاہریہ میں انھیں جہالت کاکوئی عذرنہیں دیاجائیگامثلاََ ایک شخص رسول الله صلی الله علیہ وسلم کوعالم الغیب مانتاہو،رسول الله صلی الله علیہ وسلم کومختارکل مانےاور غیب میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کوپکارےکیا ایسےشخص کو جہالت کاعذر دینادرست ہےیااسے ڈائریکٹ کافر قرار دےدیاجائیگا اور اگراسکوسمجھانے کےباوجود وہ اپنی ضداورکفرپرڈٹارہے پھر اسےکافرسمجھاجائیگاکہ نہیں؟ اور جوشخص انکی تکفیرنہیں کرتاتوکیاوہ مرجئی ہے کیونکہ جو حضرات انکی تکفیرمعین کےقائل ہیں وە یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ منافقت ہےایک طرف ہم انکےعقائدکوکفریہ شرکیہ کہتےہیں اوردوسری طرف مسلمان بھی کہتےہیں اوریہ بھی کہتےہیں کہ اگربریلوی کافرنہیں تو پھرقادیانی،شعیہ،عیسائیوں وغیرہ کوبھی کافر کہنا چھوڑدیں یاانھیں بھی مسلمان مان لیں پوچھنایہ ہے کہ انکاموٴقف کہاں تک درست ہےقرآن وسنت اورفہم سلف صالحین کی روشنی میں جواب مطلوب ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تکفیر مطلق کسی خاص کفریہ فعل کی بناء پر ہوتی ہے ۔ لیکن اس خاص فعل کا مرتکب خاص شخص اس وقت تک کافر قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک اس میں تکفیر کی شرطیں پوری نہ ہو جائیں اور موانع ختم نہ ہو جائیں ۔ لہذا پہلے تکفیر مطلق اور تکفیر معین کا فرق سمجھنا ضروری ہے ۔

تکفیر مطلق :

کسی بھی فعل کو کتاب وسنت میں کفر یا مخرج عن الملۃ قرار دیا گیا ہو تو اسکے بارہ میں کہنا جس نے بھی یہ کام کیا وہ کافر ہے ۔ تکفیر مطلق کہلاتا ہے ۔ مثلا : اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا انسان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے ۔اسی طرح اللہ تعالی کا انکار کرنے سے بندہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے ۔ لہذا ہم کہیں گے کہ جس نے بھی شرک کیا اسکا اسلام ختم ہوگیا اور جس نے بھی اللہ کا انکار کیا وہ کافر ہوگیا ۔ اور اسے تکفیر مطلق کا نام دیا جاتا ہے ۔ اور ایسی تکفیر کی صورت میں جن افراد پر یہ تکفیر صادق آتی ہے ان سے کفار والا معاملہ نہیں کیا جاتا نہ ہی انہیں مرتد قرار دیا جاتا ہے ۔ بلکہ انہیں مرتد قراردینے کے لیے انکی معین تکفیر کی جاتی ہے ۔

تکفیر معین

تکفیر معین یہ ہوتی ہے کہ کسی بھی ایسے کا م کے مرتکب شخص کو جس کام کو کفر یا شرک قرار دیا ہے نام لے کر کافر قرار دینا ۔مثلا : زید نے اللہ تعالی کی آیات کا مذاق اڑایا تو یہ کہنا کہ زید کافر ہے اسے تکفیر معین کہا جاتا ہے ۔ اور اسلام کی کسی بھی شخص کی معین تکفیر کی جاسکتی ہے لیکن اسکے لیے اللہ تعالی نے کچھ اصول مقرر فرمائے ہیں جوکہ درج ذیل ہیں :

١۔ علم

اگر کسی آدمی کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ جو کام میں کر رہا ہوں وہ کام کرنے سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے تو اس آدمی کو کفریہ کام کا ارتکاب کرلینے کے باوجود کافر نہیں کہا جائے گا ۔ مثلا زید نے اللہ تعالی کی آیات کا مذاق اڑایا ہے اور اسے معلوم ہی نہیں کہ ایسے کرنے سے انسان مرتد ہو جاتا ہے تو اسے مرتد یا کافر قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں "إن اللہ تجاوز عن امتی الخطأ والنسیان" میری امت سے خطا اور نسیان کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے درگزر کیا ہے، معاف کردیا ہے۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الطلاق باب طلاق المکرہ والناسی ح2043)

جہالت کی بنا پر، بھول کر، بندہ کام کرلیتا ہے۔ جاہل ہے، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردیں گے ۔ہم دنیا میں اس پر کفر کا فتویٰ نہیں لگا سکتے۔ جب تک اس کی جہالت رفع نہ ہو۔ بلکہ جہالت کی وجہ سے کفریہ کام سر انجام دینے والے کو تو اللہ تعالی نے معاف فرما دیا تھا ، ملاحظہ فرمائیں :

عَنْ أَبِی هُرَیْرَةَ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " کَانَ رَجُلٌ یُسْرِفُ عَلَی نَفْسِهِ فَلَمَّا حَضَرَهُ المَوْتُ قَالَ لِبَنِیهِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِی، ثُمَّ اطْحَنُونِی، ثُمَّ ذَرُّونِی فِی الرِّیحِ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَیَّ رَبِّی لَیُعَذِّبَنِّی عَذَابًا مَا عَذَّبَهُ أَحَدًا، فَلَمَّا مَاتَ فُعِلَ بِهِ ذَلِکَ، فَأَمَرَ اللَّهُ الأَرْضَ فَقَالَ: اجْمَعِی مَا فِیکِ مِنْهُ، فَفَعَلَتْ، فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ، فَقَالَ: مَا حَمَلَکَ عَلَی مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: یَا رَبِّ خَشْیَتُکَ، فَغَفَرَ لَهُ "

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک آدمی بہت گہنگار تھا۔ تو جب اسکی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو کہا جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا کر رکھ بنا دینا اور پھر مجھے ہوا میں اڑا دینا ، اللہ کی قسم اگر اللہ نے مجھے جمع کر لیا تو مجھے ایسا عذاب دے گا کہ جیسا اس نے کبھی کسی کو نہ دیا ہوگا۔ تو جب وہ فوت ہو گیا تو اسکے ساتھ ایسا ہی کیا گیا ۔ اللہ تعالی نے زمین کو حکم دیا کہ جوکچھ تیرے اندر ہے اسے جمع کر تو زمین نے اسکی خاک کو جمع کردیا اور وہ اللہ کے حضور پیش ہوا تو اللہ تعالی نے پوچھا تجھے یہ کام کرنے پر کس نے ابھارا تھا ۔ تو وہ کہنے لگا اے رب تیرے ڈر نے ہی مجھے اس کام پر مجبور کیا تھا ۔تو اللہ تعالی نے اسے معاف فرما دیا ۔ (صحیح بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب حدیث الغار :3481)

یعنی اس بیچارے نے اپنی جہالت کی وجہ سے یہ سمجھا کہ شاید اللہ کے پاس اتنی قدرت نہیں ہے کہ وہ ذروں کو جمع کر کے مجھے دوبارہ کھڑا کر سکے ۔البتہ وہ شخص مؤمن تھا اسے یقین تھا کا مرنے کے بعد حساب دینا پڑے گا ۔ اللہ تعالی پر اسے یقین تھا ۔ لیکن اپنی نادانی اور جہالت کی وجہ سے اللہ تعالی کی صفات کا انکار کر بیٹھا کہ اگر میں راکھ ہو جاؤں گا اور میرے ذرات بکھر جائیں گے تو شاید اللہ تعالی کی گرفت سے بچ جاؤں گا ۔ اور اس نے یہ کام صرف اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرتے ہوئے کیا تھا ۔ تو اللہ رب العزت نے اسے معاف فرما دیا کہ اس شخص میں جہالت کا عذر تھا ۔

٢۔قصد وعمد

یعنی کوئی بھی شخص جو کفریہ کام کا مرتکب ہوا ہے ، وہ اگر جان بوجھ کر کفر کرے گا توہم اسکا نام لے کر اسے کافر کہیں گے اور اس پر مرتد ہونے کا فتوی لگے گا ۔ اور اگر وہ کفریہ کام اس سے کسی غلطی کی وجہ سے سرزد ہوا ہے تو اسے کافر یا دائرہ اسلام سے خارج نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں "إن اللہ تجاوز عن امتی الخطأ والنسیان" میری امت سے خطا اور نسیان کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے درگزر کیا ہے، معاف کردیا ہے۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الطلاق باب طلاق المکرہ والناسی ح2043)

٣۔ اختیار

تیسری شرط یہ ہے کہ وہ آدمی مختار ہو، یعنی اپنی مرضی اور اپنے اختیار سے کرے، اگر کوئی آدمی اس کو کہتا ہے کہ تو کفریہ کلمہ کہہ، نہیں تو تجھے ابھی قتل کرتا ہوں ۔ تو وہ اس کے جبر ، تشدد وظلم کے ڈر سے کوئی کفریہ بول بول دیتا ہے تو ایسے آدمی کو کافر قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے :

﴿مَن كَفَرَ‌ بِاللَّهِ مِن بَعدِ إيمـٰنِهِ إِلّا مَن أُكرِ‌هَ وَقَلبُهُ مُطمَئِنٌّ بِالإيمـٰنِ وَلـٰكِن مَن شَرَ‌حَ بِالكُفرِ‌ صَدرً‌ا فَعَلَيهِم غَضَبٌ مِنَ اللَّهِ وَلَهُم عَذابٌ عَظيمٌ ﴿١٠٦﴾... سورة النحل

جو آدمی اللہ پر ایمان لانے کے بعد کفر کرے( اللہ کو ہرگز یہ گوارا نہیں ہے)۔ہاں وہ بندہ جس کو مجبور کردیا گیا(تو اس آدمی پر کوئی وعید نہیں ہے) لیکن جس نے شرح صدر کے ساتھ ، دل کی خوشی کے ساتھ کفر کیااس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے،اوران کےلئے بہت بڑا عذاب ہے۔

یعنی اگر جان بوجھ کر ، اپنے اختیا ر کے ساتھ، جبرواکراہ کے بغیر، وہ ایسا کفریہ بول بولتا ہے، یا کفریہ کام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ قابل مؤاخذہ ہے۔ لیکن اگر کسی کے ڈرسے وہ کفریہ کام سرانجام دیتا ہے تو وہ قابل مؤاخذہ نہیں ہے۔

ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا : "لا تشرک باللہ شیئا وان قطعت وحرقت " تجھے جلا دیا جائے ، تیرے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں، اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرنا۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب الصبر علی البلاء ح4034)

عزیمت پر محمول ہے ، یعنی موت کے خوف سے ، جان بچانے کی غرض سے کفریہ یا شرکیہ کام کرنا پڑتا ہے، کفریہ یا شرکیہ کلمہ کہنا پڑتا ہے تو آدمی کو رخصت ہے کہ کفریہ یا شرکیہ کلمہ کہہ سکتا ہے، شرکیہ یا کفریہ کام کرسکتا ہے، لیکن عزیمت یہی ہے کہ بندہ اس وقت بھی کفریہ کلمہ نہ کہے ، کفریہ بول نہ بولے۔ اور اگر وہ رخصت کو اپنالیتا ہے تو بھی شریعت نے اسکی اجازت دی ہے ۔

٤۔ تأویل

چوتھی شرط یہ ہے کہ جو شخص کفر کا ارتکاب کر رہا ہے وہ مؤول نہ ہو ۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ وہ کسی شرعی دلیل کا سہارا لے کر اس کام کو جائز سمجھتا ہو ۔قرآن وحدیث کی غلط تفسیر وتاویل کرکے کسی بھی کفریہ کام کو اپنے لیے جائز سمجھنے والے کی اس وقت تک تکفیر نہیں کی جاسکتی جب تک اس پر حجت قائم نہ ہو جائے ۔ مثلا آج کل بہت سے لوگ غیر اللہ سے ما فوق الاسباب مدد مانگتے ہیں ۔ تو ہم مطلقا کہتے ہیں کہ غیر اللہ سے مدد مانگنا شرک ہے اور جو بھی غیر اللہ سے مدد مانگتا ہے وہ مشرک وکافر ہو جاتا ہے ۔ لیکن اگر زید نامی شخص غیر اللہ سے مدد مانگتا ہے تو ہم اسے اسوقت تک کافر قرار نہیں دیں گے جب تک اس پر حجت قائم نہ کر لیں اسکی تحقیق نہ کر لیں ۔ کیونکہ اللہ تعالی نے غلط تاویل وتوجیہہ کرنے والوں کے ایسے کاموں سے درگزر فرمایا ہے نبی کریم e کا فرمان ہے :

إِذَا حَکَمَ الْحَاکِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَکَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ، فَلَهُ أَجْر ٌ ( صحیح مسلم : ١٧١٦)

جب فیصلہ کرنے والا فیصلہ کرتا ہے ، اگر تو اسکا فیصلہ درست ہو تو اسے دو اجر ملتے ہیں اور اگر اسکا اجتہاد اسے غلطی پر پہنچا دے توبھی اسے ایک اجر ملتا ہے ۔

اور ہمارے یہاں پائے جانے والے بہت سے ایسے افراد جو کفریہ وشرکیہ کام کرتے ہیں وہ اجتہادی خطأ کا شکار ہوتے ہیں اور کتاب وسنت کی نصوص کی غلط تاویل وتفسیر کرکے اسے ہی حق سمجھ رہے ہوتے ہیں ۔ لہذا کیسے ممکن ہے کہ ایسے شخص کی تکفیر کردی جائے جسے اللہ تعالی ایک اجر عطا فر ماتے ہیں ۔

الغرض کسی بھی شخص کی معین تکفیر یعنی اسکا نام لے کر اسے کافر قرار دینا یا کسی جماعت کی معین تکفیر اس وقت تک نہیں کی جاسکتی جب تک اللہ رب العزۃ کے مقرر کردہ اصول وقوانین کو اپلائی نہ کیا جائے ۔

یہی وجہ ہے کہ ہم کہتے ہیں "عقائد بریلویہ کفریہ وشرکیہ ہیں " لیکن کبھی کسی ایک بریلوی عالم کو اسکا نام لے کر کافر یامشرک قرار نہیں دیتے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)