فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8720
(106) کافروں کے چھوٹے بچوں کا حکم اہل فترت کا ہے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 December 2013 04:00 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ آخرت میں مشرکوں کا ٹھکانا کیا ہو گا؟ لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے وہ چھوٹے بچے جو بلوغت سے پہلے فوت ہو جائیں ان کا انجام کیا ہو گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب کفار کے بچے سن تمیز سے پیلے فوت ہو جائیں اور ان کے والدین کافر ہوں تو دنیا میں ان کا حکم کافروں کا ہو گا کہ انہیں نہ غسل دیا جائے گا نہ کفن دیا جائے گا نہ جنازہ پڑھا جائے گا اور نہ انہیں مسلمانوں کے ساتھ دفن ہی کیا جائے گا، کیونکہ وہ اپنے والدین کے ساتھ کافر ہی ہیں۔ باقی رہا آخرت میں ان کا حال تو یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اگر وہ بڑے ہوتے تو دنیا میں کس طرح کے عمل کرتے؟ ان کے بارے میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انہیں کوئی حکم دے کر ان کی آزمائش کرے گا اگر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں داخل کر دے گا اور اگر وہ نافرمانی کریں گے تو پھر اللہ تعالیٰ انہیں جہنم رسید کر دے گا۔ اہل فترت اور ان لوگوں کے بارے میں بھی یہی قول ہے جن تک اللہ تعالیٰ کا پیغام نہ پہنچ سکا ہو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اگر ان تک (اللہ تعالیٰ کا) پیغام پہنچ جاتا تو وہ دنیا میں کس طرح کے کام کرتے، لہذا اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے گا ان کی آزمائش کرے گا۔ اگر انہوں نے اطاعت کی تو انہیں جنت میں داخل کر دے گا اور اگر نافرمانی کی تو پھر انہیں جہنم رسید کر دیا جائے گا۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

      ج  2 


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)