فتاویٰ جات: توحید
فتویٰ نمبر : 867
’’لا اله الا الله‘‘ توحید کی تمام اقسام پر کس طرح مشتمل ہے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 02 June 2012 12:00 PM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

’’لا اله الا الله‘‘ توحید کی تمام اقسام پر کس طرح مشتمل ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

جواب: یہ کلمہ توحید کی تمام اقسام پر مشتمل ہے، سوال یہ پیداہوتاہے کہ کلمہ توحید کی توحیدکی تمام اقسام پر  دلالت ضمنی ہے یا الزامی ہے۔ وہ اس طرح کہ جب کوئی کہنے والا یہ کہتا ہے کہ ’’میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں‘‘ تو اس سے ذہن میں فوراً یہ خیال آتا ہے کہ اس سے مراد توحید عبادت ہے جسے توحید الوہیت کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے اور توحید الوہیت توحید ربوبیت پر بھی مشتمل ہے کیونکہ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ وحدہ کی عبادت کرے تو اس کی ربوبیت کے ا قرار کے بغیر تواللہ کی عبادت نہیں کرے گا۔ اسی طرح یہ توحید اسماء و صفات پر بھی مشتمل ہے کیونکہ انسان صرف اسی کی عبادت کرتا ہے جس کے بارے میں اسے معلوم ہو کہ وہ مستحق عبادت ہے اوراللہ کے اسماء وصفات کا یہی تقاضا ہے، اسی لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام  نے اپنے باپ سے یہ کہا تھا:

﴿إِذۡ قَالَ لِأَبِيهِ يَٰٓأَبَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا يَسۡمَعُ وَلَا يُبۡصِرُ وَلَا يُغۡنِي عَنكَ شَيۡ‍ٔٗا﴾--مریم:42

’’ابا جان! آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں۔‘‘

بایں طورتوحید عبادت، توحید ربوبیت اور توحید اسماء وصفات پر خودبخود مشتمل ہوکر سامنے آجاتی ہے۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ ارکان اسلام

عقائد کے مسائل صفحہ 55

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)