فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8648
(34) میت کے بال کاٹنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 December 2013 11:13 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

: کیا میت کے بال کاٹنا جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر میت کی مونچھوں کے بال بہت لمبے ہوں تو انہیں کاٹنے میں کوئی حرج نہیں، اسی طرح بغل کے بالوں کو بھی صاف کیا جا سکتا ہے لیکن وفات کے بعد زیر ناف اور شرم گاہ کے بالوں کو صاف کرنا جائز نہیں، کیونکہ مرد ہو یا عورت اس کی شرم گاہ کو ہاتھ لگانا جائز نہیں ہے۔ آدمی کے سر کے بالوں میں کنگھی کر دی جائے اور عورت کے بالوں کو گوندھ کر تین لٹیں بنا دی جائیں اور انہیں پیچھے کی طرف ڈال دیا جائے، کاٹا نہ جائے اور انہیں اسی طرح اپنی حالت میں رہنے دیا جائے۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

      ج  2 


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)