فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 864
(34) اللہ تعالیٰ کے) ارادے کی کتنی قسمیں ہیں
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 02 June 2012 11:54 AM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

(اللہ تعالیٰ کے) ارادے کی کتنی قسمیں ہیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

ارادے کی دو قسمیں ہیں:

                 (۱)ارادہ کونیہ۔         (۲) ارادہ شرعیہ۔

 جو مشیت کے معنی میں ہو وہ ارادہ کونیہ ہے اور جو محبت کے معنی میں ہو وہ ارادہ شرعیہ ہے۔ ارادہ شرعیہ کی مثال ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَٱللَّهُ يُرِيدُ أَن يَتُوبَ عَلَيۡكُمۡ﴾--النساء:27

’’اور اللہ تو چاہتا ہے کہ تم پر توجہ دے۔‘‘

یہاں ﴿یُرِیْدُ﴾  ﴿یُحِبُّ﴾ کے معنی میں ہے مراد یہ ہے کہ ’’وہ پسند فرماتا ہے۔‘‘ دراصل یہاں پر(یرید) مشیت کے معنی میں نہیں ہے کیونکہ اگر اس کے معنی یہ ہوتے (وَاللّٰہُ یَشَائُ اَنْ یَّتُوبَ عَلَیْکُمْ) ’’اللہ چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے۔‘‘مرادیہ ہے کہ اگر اس کو مشیئت کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی مشیئت کا تقاضہ ہے کہ وہ تمام بندوں پر مہربانی فرما ئے۔ لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ انسانوں کی اکثریت تو کافر ہیں، اسی لئے یہاں پر ﴿یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْکُمْ﴾  کے معنی (یحب)کے لئے گئے ہیں یعنی کہ اللہ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ وہ تم پر مہربانی کرے، لیکن اللہ تعالیٰ کے کسی چیز کو پسند فرمانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ چیز وقوع پذیر بھی ہو جائے گی، کیونکہ بسااوقات اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ وہ چیز وقوع پذیر نہ ہو۔

ارادہ کونیہ کی مثال حسب ذیل ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿إِن كَانَ ٱللَّهُ يُرِيدُ أَن يُغۡوِيَكُمۡۚ﴾--هود:34

’’اگر اللہ یہ چاہے کہ تمہیں گمراہ کر دے۔‘‘

یہاں پر یرید (مشیئت) معنی کے معنی میں واردہواہیکیونکہ اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ وہ بندوں کو گمراہ کرے، لہٰذا اس جگہ یہ معنی صحیح نہیں ہوں گے کہ (اِنْ کَانَ اللّٰہُ یُحِبُّ اَنْ یُّغْوِیَکُمْ) ’’اگر اللہ اس بات کو پسند فرمائے کہ تمہیں گمراہ کر دے‘‘ بلکہ آیت کریمہ کے اس مقطعہ کے معنی یہ ہوں گے کہ ’’اگر اللہ چاہے کہ تمہیں گمراہ کر دے۔‘‘

اب رہی یہ بات کہ مراد کے وقوع پذیر ہونے کے اعتبار سے کونی اور شرعی ارادے میں کیا فرق ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ارادہ کونیہ فرماتا ہے، یعنی کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ چیز فوراً پیدا ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿إِنَّمَآ أَمۡرُهُۥٓ إِذَآ أَرَادَ شَيۡ‍ًٔا أَن يَقُولَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ﴾--یٰسٓ:82

’’اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے فرماتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔‘‘

جہاں تک شرعی ارادے کا تعلق ہے، تو اس کے مطابق کبھی مراد وقوع پذیر ہو جاتی ہے اور کبھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ ایک چیز کا شرعاً ارادہ رکھتا ہے اور اسے پسند فرماتا ہے، لیکن وہ وقوع پذیر نہیں ہوتی کیونکہ محبوب چیز کبھی وقوع پذیر ہوتی ہے اور کبھی نہیں ہوتی۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ’’اللہ تعالیٰ اس بات کا ارادہ رکھتا ہے کہ بندے گناہ کریں‘‘ تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا کونی ارادہ تو ہے، مگر شرعی ارادہ نہیں کیونکہ شرعی ارادہ محبت اور پسندیدگی کے معنی میں ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں فرماتا کہ بندے گناہوں کا ارتکاب کریں لیکن اللہ تعالیٰ کے کونی ارادہ کا ان سے تعلق ضرور ہے کیونکہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ساتھ ہے۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ ارکان اسلام

عقائد کے مسائل صفحہ 87

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)