فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8602
(233) داڑھی کا مذاق اڑانا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 16 December 2013 02:40 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

داڑھی  نبی کر یم ﷺ سے  ثا بت  صحیح  سنتوں میں سے ایک سنت ہے کچھ لو گ اسے منڈوا  دیتے ہیں کچھ کترا دیتے ہیں کچھ اس کا انکار کرتے ہیں اور کچھ یہ کہتے ہیں کہ یہ سنت ہے رکھنے وا لے کو ثواب ہو گا  اور نہ رکھنے واکے کو عذاب نہ ہو گا  کچھ بے وقوف یہ بھی کہتے ہیں  اگر داڑھی میں خیرو بر کت ہو تی   تو با ل زیر نا ف نہ اگتے  اللہ تعا لی ایسے کہنے والوں کا برا کر ے -----تو ان میں سے ہر ایک کے لئے  کیا حکم ہے ؟اور جو شخص نبی کر یمﷺ کی کسی سنت کا انکا ر کر ے  اس کے لئے کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رسول اللہ ﷺکی  صحیح  سنت سے یہ ثا بت ہے  کہ داڑھی بڑھا نا اور رکھنا سنت ہے  اور اسے منڈانا اور کترا نا حرا م ہے چنا نچہ صحیحین میں حضرت  ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فر مایا :

خالفوا المشركين ووفروا اللحي واحفوا الشوارب (صحيح بخاری)

"مو نچھیں  کترو  داڑھیوں  کو چھوڑ دو  اور مشر کوں  کی مخا لفت کرو ۔"

اورحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے کی:

جزوا الشوارب وارخوا اللحي وخالفوا المجوس (صحيح مسلم)

"مو نچھوں کو کترو داڑھیوں کو  بڑھا ئو  اور مجوسیوں  کی مخا لفت کرو ۔یہ دو حدیثیں اور ان  کے ہم معنی دیگر  احا دیث اس با ت پر دلالت کر تی ہیں   کہ داڑھی رکھنا  اور بڑھا نا  واجب ہے اور اسے مو نڈنا اور کترا نا حرا م ہے  جیسا کہ ہم نے  ذکر  کیا ۔جو شخص یہ کہتا ہے  کہ داڑھی  رکھنا  سنت ہے  رکھنے والے کو ثواب  ہو تا ہے   اور نہ رکھنے والے کو گناہ نہ ہو گا  وہ یقینا  غلط کہتا  اور صحیح  احا دیث  کی مخا لفت  کر تا  ہے  کیو نکہ اصول یہ ہے کہ  امروجوب  اور نہی  تحریم  کے لئے  ہے اور کسی  کے لئے یہ جا ئز  نہیں کہ وہ کسی دلیل  کے بغیر  احا دیث  صحیح کے ظا ہر  مفہوم  کی مخا لفت کر ے اور یہاں کو ئی ایسی دلیل نہیں ہے  جس کی بنیا د  پر ان احا دیث  کے ظا ہر کو بدل  دیا جا ئے ۔ امام ترند ی  نے حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی جو حدیث بیا ن کی ہے  کہ:

انه كان ياخذ من لحيه من طولها وعرضها (جامع ترمذي)

"نبی کر یمﷺ اپنی داڑھی  کے طول  و عرض کی طرف سے با لو ں  کا کاٹ دیا  کر تے تھے ۔"تو یہ حدیث با طل ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے صحیح سند  کے سا تھ  ثا بت  نہیں  ہے کیو نکہ  اس کی سند میں ایک راوی  مہتم  با لکذب  ہے ۔ جو شخص داڑھی کا مذاق اڑا تے ہو ئے اسے زیر  نا ف  بالوں سے  تشبیہ  دے تو یہ بہت  بڑا گناہ ہے ۔جو اسلام سے مر تد ہو نے کا مو جب ہے ۔ کیو نکہ جو  چیز کتا ب اللہ اور رسول  اللہ ﷺ سے ثا بت ہو اس کا مذاق اڑا نا کفر و ارتداد ہے  جیسا کہ اللہ تعا لیٰ کا ارشاد گرا می ہے ۔

﴿ قُل أَبِاللَّهِ وَءايـتِهِ وَرَ‌سولِهِ كُنتُم تَستَهزِءونَ ﴿٦٥ لا تَعتَذِر‌وا قَد كَفَر‌تُم بَعدَ إيمـنِكُم...٦٦﴾... سورة التوبة

" کہو کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول  سے  ہنسی مذاق  کرتے  تھے ؟بہا نے مت بنا ؤ  تم ایما ن لا نے کے بعد کا فر ہو چکے ہو ۔"

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1 ص38

(0 ووٹس)
یہ مضمون مددگار رہا
یہ مضمون غیر مددگار رہا

[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)