فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8600
(231) مو نچھوں کو کاٹنا اور داڑھیوں کو بڑھا نا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 16 December 2013 02:31 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مختلف احا دیث میں الفا ظ  آئے ہیں  کہ (قصواالشارب  واعفو اللحی) اسی طرح (قص الشارب  قلم الا ظا فر    نتفالا بط )اور(حلق العا نۃ)کے الفا ظ  بھی آئے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا حلق  اور قص ایک دوسرے سے مختلف  معنی  رکھتے ہیں  ؟یہ سوا ل  بھی ہے کہ کچھ  لو گ مو نچھ کے با لوں کو تو کا ٹ  دیتے ہیں  جو اوپر  کے ہو نٹ  کے سا تھ  ملے  ہو تے ہیں ۔لیکن با قی  مو نچھ کو نہیں کا ٹتے ۔ بعض لو گ آدھی مونچھ کا ٹا دیتےہیں  اور آدھی  نہیں کا ٹتے  تو کیا (اوینک الشا رب ) کے یہی  معنی ہیں ؟ امید ہے کہ وضا حت  فر ما ئیں گے  کہ مو نچھوں  کے کا ٹنے کا کیا  طریقہ  ہو نا  چا ہئے  جب کہ داڑھی  کے با ر ے میں  تو یہ با ت معروف ہے   کہ اسے بلکل  چھوڑ دینا  چا ہئے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 رسول اللہ ﷺ  کی صحیح احا دیث  سے ثا بت ہے  کہ آپ نے  فر ما یا :

خالفوا المشركين ووفروا اللحي واحفوا الشوارب (صحيح بخاری)

"مونچھوں کو کترو داڑھیوں کو بڑھا ئو  اور مشرکوں  کی مخا لفت کر و ۔" اس حدیث کی صحت پر تما م ائمہ  کا اتفاق ہے  نیز آپ ﷺ نے یہ  بھی فر مایا کہ :

 جزوا الشوارب وارخوا اللحي وخالفوا المجوس (صحيح مسلم)

"مونچھوں کو کترو  داڑھیوں کو بڑھا ئو  اور مجو سیوں  کی مخا لفت کرو  ۔"بعض روایت میں (  اخفوا الشوا  رب ) کے بھی الفا ظ ہیں   اور احفا ء کے معنی ہوتے ہیں خو ب اچھی طرح  مبا لغہ  .کے سا تھ مونڈ دینا لہذا  جو شخص  مونچھ کے با لو ں کو کتر دے  حتی کہ اوپر کا ہو نٹ  ظا ہر ہو جا ئے  یا خوب  اچھی طرح سا رے  با ل  مونڈ دے  تو اس  میں کو ئی حرج نہیں  کیونکہ  احا دیث  سے دونوں طرح  ثا بت ہے ۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1 ص38

(0 ووٹس)
یہ مضمون مددگار رہا
یہ مضمون غیر مددگار رہا

[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)