فتاویٰ جات: تعلیم وتعلم
فتویٰ نمبر : 8587
(218) فتوی دینے میں تو قف کر نا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 16 December 2013 01:59 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عا لم  کے لئے  فتوی  سے تو قف  کے کیا  اسبا ب  ہو سکتے  ہیں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایک عا لم  جب فتوی  دینے  کا اہل  ہو اور اس کے پا س  علم  بھی  ہو تو  وہ  فتوی  دینے  سے  تو قف  یا  تو  دلا ئل  کے  تعا رض  کی  وجہ سے کر ے گا  یا اس  وجہ  سے کہ اس کے  نزدیک  مستفتی ( فتوی طلب کر نے والا ) غیر  سنجیدہ  ہو گا کیو نکہ بعض  مستفتی  حق  معلوم  کر نے  کے لئے  فتوی  طلب  نہیں  کر تے  بلکہ  ان  کا مقصود  کھیل  تما شا  اور یہ دیکھنا  ہو تا ہے کہ  یہ عا لم  اس کا  کیا جوا ب  دیتا ہے ؟ دوسرا کیا اور تیسرا  اس کا کیا جوا ب  دیتا ہے ؟ لہذا  ایسی صورت حا ل میں ایک عا لم تو قف کر تا  یا جوا ب  دینے  سے   اعراض کر تا  ہے   جب کہ اسے یہ علم یا ظن  غا لب  ہو کہ  یہ شخص  کھیل تما شا کر رہا ہے   یہ محض  لو گو ں  کا جا ئزہ  لینا   چا ہتا ہے یا  یہ   چا ہتا  ہے  کہ  بعض اقوال کا سہارا لے کر  بعض کو رد کر دے اور یہ صورت  پہلی سے بھی زیا دہ  سنگین  ہے کیو نکہ  اس صورت  میں وہ یہ  کہتا ہے  کہ فلا ں  عا لم یہ کہتا ہے  اور فلاں یہ ( ہم کس کی با ت ما نیں  اور کس کی نہ ما نیں  لہذا  نتیجہ  وہ  کو ئی بات  بھی نہیں  ما نتا )یہ صورت بھی ان کے اسباب  میں سے ہے  جن کی وجہ سے  ایک  مفتی  فتوی  دینے میں توقف  سے کا م لیتا ہے ۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1 ص38

(0 ووٹس)
یہ مضمون مددگار رہا
یہ مضمون غیر مددگار رہا

[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)