فتاویٰ جات: تعلیم وتعلم
فتویٰ نمبر : 8581
(212) میں استا نی ہو ں کیا طا لبا ت کے سوا لا ت کے جوا با ت دے سکتی ہوں ؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 16 December 2013 01:50 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں ایک استا نی ہو ں    انٹر میڈ یٹ کا لج  سے  میں نے اسلا مک    سٹڈیز  میں  سند فرا غت  حاصل  کی ہے  ۔ کچھ فقہی  کتا بوں  کا بھی  مطا لعہ  کیا ہے  طا لبا ت  مجھ  سے سوا ل  کر تا ہیں   تو کیا اپنی معلو ما ت کے مطا بق  بطریق  قیاس  واجتہا د--- حلال  و  حرا م  کے احکا م  میں  مدا خلت  کئے بغیر --- میں  ان کے سوالوں کے جوا ب  دے سکتا ہو ں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کتا بو ں کی طرف مراجعت  اور اجتہا د  کر نے  کے بعدوہ جوا ب  دو  جس کے با ر ے میں ظن غا لب یہ ہو کہ وہ صحیح ہے  اور اس طرح سوالوں کے جواب دینے میں کو ئی حر ج نہیں  جب کسی جوا ب کے بار ے میں شک ہو  اور واضح نہ ہو  کہ صحیح جوا ب کیا ہے  تو کہہ دو اس جوا ب کا  مجھے معلوم نہیں   اور طا لبات سے یہ وعدہ کر لو   کہ تحقیق  کر کے اس کا جواب  بتا ئوں گی   پھر کتا بوں کا مطا لعہ کر و   یا اہل علم سے اس کا جوا ب  پوچھ  لو  تا کہ معلوم ہو جا ئے   کہ صحیح جوا ب کیا ہے ،

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1 ص38

(3 ووٹس)
یہ مضمون مددگار رہا
یہ مضمون غیر مددگار رہا

[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)