فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8580
(211) میں کتا بیں جمع کر تا ہوں لیکن پڑھتا نہیں
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 16 December 2013 01:48 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

الحمد اللہ  میرے پا س  بہت سی مفید  کتب  اور مرا جع  ہیں لیکن  میں سب کو نہیں پڑ ھتا   بلکہ ان میں سے  بعض منتخب کتا بوں   کو پڑھتا ہو ں  تو یہ سوا ل ہے  کیا گھر میں کتا بیں جمع  کر کے  رکھنے کی صورت  میں گناہ  تو  نہ ہو گا  ہا ں  یہ  بھی ہے  کہ  بعض  لو گ  مجھ  سے وقتا فوقتا  کتا بیں  مستعا ر  کے جاتے ہیں  اور استفا دہ کر کے انہیں واپس کر دیتے ہیں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایک  مسلما ن کے لئے  اس بات  میں کو ئی حرج نہیں ہے کہ وہ مفید کتا بوں کو جمع کر لے   اپنی لائبریری میں حفا ظت  سے رکھے خود بھی مراجعت  اور استفا دہ  کر ے  اور ملا قات کے لئے آنے والے اہل علم  کی خد مت  میں بھی پیش کر ے   تکہ وہ ان سے استفا دہ ہو سکیں  اگر بہت سی کتا بوں کو   آدمی خود نہ بھی پڑھ سکے   تو کو ئی حرج نہیں   قا بل اعتما د آدمیوں کو  استفادہ  کے لئے  کتا بیں  مستعا ر  دینا  نیکی  کا کا م  اور  تقرب  الٰہی  کے حصو ل  کا ذریعہ  ہے کہ یہ تحصیل  علم کے لئے  اعا نیت ہے اور  حسب  ذیل  ارشاد باری  تعا لیٰ :

﴿وَتَعاوَنوا عَلَى البِرِّ‌ وَالتَّقوى...٢﴾... سورة المائدة

" نیکی اور پر ہیز گا ر ی کے کا موں میں  ایک دوسر ے  کی مدد کیا کرو ۔"اور نبی ﷺ کے فر ما ن  کے مصدا ق  ہے کہ :

والله في عون العبد ما كان العبد في عون اخيه (صحيح مسلم)

 اللہ تعا لی اپنے بندے کی اس وقت  تک مدد کر تا رہتا ہے  جب تک وہ  بندہ اپنے  بھا ئی کی مدد کر تا رہتا ہے ۔"

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1 ص38

(0 ووٹس)
یہ مضمون مددگار رہا
یہ مضمون غیر مددگار رہا

[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)