فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8521
(156) غیر مسلموں سے میل جول سے دینی غیر ت ختم ہو جا تی ہے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 15 December 2013 04:03 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں اردن کے ایک ایسے گھر میں مقیم ہو ں  جس کے رہنے والوں کی اکثریت  عیسا ئی  بھا ئیوں پر مشتمل ہے ہم  ایک دوسرے  کے سا تھ  مل جل کر  کھا تے  پیتے ہیں ۔تو کیا میری نماز با طل ہے  ؟ اور میری  اقامت  ان کے ساتھ جا ئز ہے یا نہیں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ کے اس سوال  کے جوا ب  سے پہلے   میں  ایک ضروری  با ت  کی طرف تو جہ  دلا نا  ضروری  سمجھتا ہوں  اور امید ہے کہ یہ با ت  آپ کی زبا ن پر قصدواردہ  کے بغیر  آئی ہو گی  اور وہ  یہ کہ آپ نے کہا  ہے کہ "میں عیسائی  بھا ئیوں  کے سا تھ  رہتا ہو ں ۔" تو با ت  یہ ہے کہ  مسلمانوں  اور  عیسا ئیوں  کے درمیا ن  کبھی  بھی  اخوت  کا  رشتہ قا ئم  نہیں  ہو سکتا  کیونکہ  اخوت  تو  ایما نی  اخوت  ہے   جیسا  کہ اللہ تعالیٰ ٰ  نے فر ما یا ہے کہ :

﴿إِنَّمَا المُؤمِنونَ إِخوَةٌ...١٠﴾... سورة الحجرات

"مو من  تو آپس میں  بھا ئی  بھا ئی ہیں ۔"

اگراختلا ف دین کی وجہ سے قرابت  نسب ختم ہو سکتی ہے ۔ تو اختلا ف دین اور عدم قرابت  کی وجہ سے اخوت  کیسے  با قی    رہ  سکتی  ہے  ؟ جب حضرت نو ح علیہ السلام  نے عرض کیا " میرے  پروردگا  ر  ؛میرا  بیٹا  بھی  میرے  گھر والوں  میں  سے تھا  (تو اس کو  بھی   نجا ت دے )  تیرا وعدہ  سچا ہے  اور  تو سب سے بہتر  حا کم  ہے" تو اللہ تعالیٰ ٰ نے جوا ب  میں  یہ فر ما یا تھا  کہ وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں تھا  کیو نکہ اس کے عمل اچھے نہ تھے ۔مو من اور کا فر کے درمیا ن   کبھی بھی  اخوت نہیں ہو سکتی  بلکہ  مو من  پر فرض یہ ہے  کہ وہ کسی کا فر کو دوست نہ بنا ئے  جیسا کہ ارشا د با ر ی تعا لیٰ ہے :

﴿يـأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذوا عَدُوّى وَعَدُوَّكُم أَولِياءَ تُلقونَ إِلَيهِم بِالمَوَدَّةِ وَقَد كَفَر‌وا بِما جاءَكُم مِنَ الحَقِّ...١﴾... سورة الممتحنة

"مو منو ؛ اگر تم میری راہ میں لڑنے  اور خوشنودی  طلب  کر نے کے لئے   نکلے  ہو  تو میر ے  اور اپنے  دشمنوں  کو دوست نہ بنا ئو  تم  ان کی دوست  کے پیغا م    بھیجتے ہو  اور وہ (دین ) حق سے جو تمہا رے  پا س آیا ہے ۔ منکر ہیں ۔" اللہ کے دشمن کو ن ہیں اللہ کے دشمن کا فر ہیں ارشا د با ری تعا لیٰ  ہے ۔:

﴿مَن كانَ عَدُوًّا لِلَّهِ وَمَلـئِكَتِهِ وَرُ‌سُلِهِ وَجِبر‌يلَ وَميكىلَ فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِلكـفِر‌ينَ ﴿٩٨﴾... سورة البقرة

جو شخص اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا  اور اس کے پیغمبروں کا  اور  جبرئیل اور میکا ئیل  کا دشمن  ہو تو  ایسے  کا فر وں کا اللہ دشمن ہے ۔"نیز فر مایا :

﴿يـأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذُوا اليَهودَ وَالنَّصـر‌ى أَولِياءَ بَعضُهُم أَولِياءُ بَعضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِنكُم فَإِنَّهُ مِنهُم إِنَّ اللَّهَ لا يَهدِى القَومَ الظّـلِمينَ ﴿٥١﴾... سورة المائدة

"اے ایما ن وا لو؛ یہود و نصا ری  کو دوست نہ بنا ئو  جو ان کو دوست  بنائے  گا  وہ انہی میں سے ہو گا بے شک  اللہ تعالیٰ ٰ ظا لم لو گو ں کو ہدا یت نہیں دیتا

لہذا کسی بھی مسلما ن کے لئے  یہ جا ئز نہیں کہ وہ کسی بھی کا فر کو خواہ  وہ عیسا ئی  ہو یا یہودی  مجوسی  ہو یا ملحد کبھی بھی اپنا بھا ئی قرار  دے ۔ اے بھائی آئندہ کسی  غیر مسلم کو بھا ئی  کہنے  سے اجتناب  کیجیے ۔ اب اپنے سوال کا جواب ملا حظہ کیجیے جو یہ ہے کہ آپ غیر مسلموں کے سا تھ  مل جل کر رہنے سے  پر ہیز کر نا چاہیے  کیو نکہ غیر مسلموں  سے  میل جو ل آپ کے دل سے دینی غیرت کو نکال  دے گا اور ممکن ہے کہ ان کی  محبت  و مودت آپ کے دل میں  پیدا  ہو  جا ئے  جب  کہ ارشاد با ر ی تعالیٰ ٰ  یہ ہے  کہ :

﴿لا تَجِدُ قَومًا يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ‌ يُوادّونَ مَن حادَّ اللَّهَ وَرَ‌سولَهُ وَلَو كانوا ءاباءَهُم أَو أَبناءَهُم أَو إِخونَهُم أَو عَشيرَ‌تَهُم أُولـئِكَ كَتَبَ فى قُلوبِهِمُ الإيمـنَ وَأَيَّدَهُم بِر‌وحٍ مِنهُ وَيُدخِلُهُم جَنّـتٍ تَجر‌ى مِن تَحتِهَا الأَنهـرُ‌ خـلِدينَ فيها رَ‌ضِىَ اللَّهُ عَنهُم وَرَ‌ضوا عَنهُ أُولـئِكَ حِزبُ اللَّهِ أَلا إِنَّ حِزبَ اللَّهِ هُمُ المُفلِحونَ ﴿٢٢﴾... سورة المجادلة

جو لو گ  اللہ پر اور روز  قیا مت پر  ایمان  رکھتے ہیں  تم ان کو اللہ اور  اس کے رسول  کے دشمنوں  سے دوستی  کرتے ہو ئے دیکھوگے  خواہ وہ ان کے باپ  یا ان کے بیٹے یا بھا ئی  یا خا ندان   کے لو گ  ہو ں یہ لوگ ہیں جن کے دلوں  میں اللہ  نے ایمان (پتھر لکیر کی طرح ) تحریر  کر دیا ہے  اور فیض غیبی سے ان کی مدد کی ہے اور وہ ان کو  بہشتوں میں    جن کے نیچے  نہریں  بہہ  رہی ہیں  داخل کر ے گا ہمیشہ  ان میں رہیں گے اللہ ان سے خوش اور وہ اللہ سے خوش یہی گروہ اللہ کا لشکر ہے (اور ) سن رکھو کہ اللہ ہی  کا لشکر مرا د حا صل  کر نے والا ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1 ص38

(0 ووٹس)
یہ مضمون مددگار رہا
یہ مضمون غیر مددگار رہا

[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)