فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8519
(154) غیر مسلم کا ر کنوں کو اسلا می ممالک خصوصا ًجزیر ۃالعرب میں بلا نا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 15 December 2013 03:56 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا غیر مسلم کا ر کنو ں کو بلا نا جا ئز ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس میں کچھ شک نہیں کہ نبی کریم ﷺ  نے یہ حکم دیا تھا کہ مشر کو ں کو  جزیرۃ العرب سے نکا ل دیا  جا ئے  یہو دو نصا ری  کے  جزیرۃ العرب  سے نکال  دینے کا بھی آپ نے حکم دیا  اور  فر مایا کہ :

لاخرجن اليهود والنصاري ن جزيرة العرب حتي لا ادع الا مسلما (صحيح مسلم)

"یہود و نصا ری کو  جزیرۃ العرب سے نکا ل دوں گا  حتی کہ یہا ں صرف مسلما ن  ہی با قی رہ جا  ئیں گے  ۔"احا دیث اس با ت پر دلا لت کر تی ہے  کہ نبی کر یم ﷺ کی خوا ہش یہ تھی  کہ جزیرۃ العرب میں  صرف مسلما ن ہی رہیں  کیو نکہ عیسا ئیوں اور دیگر  کفا ر  کے جزیرۃ العرب  میں مو جو د  ہو نے  کے بہت سے خطرا ت ہیں اس جزیرہ سے اسلا م  کا آغا ز  ہو ا  اور  یہاں سے اسلا م  اطرا ف و اکنا ف عا لم میں پھیل گیا  اور پھر  با لا آخر  اسلام  یہیں  لو ٹ آئے  گا  کہ صحیح حدیث  سے  ثا بت ہے کہ ایمان  سمٹ کر مدینہ  کی طر ف  اس طرح آجا ئے گا  جس طرح   سا نپ   سمٹ  کر اپنی بل  کی طرف آجا تا ہےغیر  مسلموں کو جزیرۃالعرب  میں بلا نے کے بہت  زیادہ خطرات ہیں   اور نہ بھی ہوں تو کیا  یہ خطرہ کم ہے  کہ انہیں بلا نے والا ان  سے الفت  و محبت کا اظہا ر کر ےگا  ان کی طرف ما ئل ہو گا  ممکن ہے اس کے دل میں بھی  ان کی محبت  رچ بس جا ئے اور ارشاد با ر ی تعالیٰ ٰ ہے :

﴿لا تَجِدُ قَومًا يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ‌ يُوادّونَ مَن حادَّ اللَّهَ وَرَ‌سولَهُ وَلَو كانوا ءاباءَهُم أَو أَبناءَهُم أَو إِخونَهُم أَو عَشيرَ‌تَهُم أُولـئِكَ كَتَبَ فى قُلوبِهِمُ الإيمـنَ وَأَيَّدَهُم بِر‌وحٍ مِنهُ...٢٢﴾... سورة المجادلة

"جو لو گ  اللہ  پر اور روز قیا مت پر ایما ن رکھتے ہیں  تم ان کو اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی  کرتے   ہوئے  نہ دیکھو  گے خواہ  وہ ان کے با پ یا بیٹے یا بھا ئی  یا خا ندا ن  ہی کے  لو گ  ہو ں  یہ وہ لو گ  ہیں جن کے دلوں  میں  اللہ  نے ایما ن  (پتھر  پر  لکیر  کی طرح  تحر یر  کر دیا ہے اور فیض  غیبی  سے ان کی مدد کی ہے ۔"اس بات کا بھی امکا ن ہے  کہ اس کے سا منے  حق با طل  میں  اشتباہ پیدا ہو  جا ئے  اور وہ انہیں اپنا بھا ئی  سمجھنے لگ جا ئے اور شیطا ن کے بہکا وے میں آکر کہے  کہ یہ  ہما رے انسا نی  بھا ئی  ہیں حا لا نکہ یہ با ت درست نہیں ہے  کیو نکہ حقیقی اخوت  ایما نی  اخوت  ہے دین کا اختلا ف  ہو تو  پھر  کو ئی اخوت نہیں  حتی کہ اللہ  سبحا نہ وتعالیٰ ٰ کی خدمت  میں جب  حضرت نو ح علیہ السلام نے یہ عرض کیا :

﴿وَنادى نوحٌ رَ‌بَّهُ فَقالَ رَ‌بِّ إِنَّ ابنى مِن أَهلى وَإِنَّ وَعدَكَ الحَقُّ وَأَنتَ أَحكَمُ الحـكِمينَ ﴿٤٥﴾... سورة  هود

"میرے پروردگا ر ؛میرا بیٹا  بھی  میر ے  گھر وا لوں  میں سے تھا (تو اس کو بھی نجا ت  دے ) تیرا وعدہ سچا ہے  اور تو  سب سے  بہتر حکم ہے ۔"

تو اللہ تعا لیٰ نے  فر ما یا :

﴿ إِنَّهُ لَيسَ مِن أَهلِكَ...٤٦﴾... سورة هود

''وہ تیرے گھروالوں میں سے نہیں تھا۔''

نبی کر یمﷺ نے بھی مو من اور کا فر  کے درمیا ن  ہر قسم  کے تعلق  کو منقطع  کر دیا ہے حتی کہ  آپ نے فر مایا :

لايرث المسلم الكافر ولا الكافر المسلم (صحيح بخاري)

"مسلما ن کا فر کا اور کا فر مسلمان  کا وارث نہیں ہو سکتا  ۔" جب صورت حال یہ ہے  تو  پھر مسلموں سے میل جول  رکھنا  ۔انہیں  اپنے  ملکوں  میں بلانا  انہیں  اپنے کا موں  میں شریک کر نا  ان کے سا تھ   کھا نا  پینا  اور ان کے پاس آ نا  جا نا  مسلما نوں  کے دلو ں  سے غیرت  کو ختم  کر دے گا حتی کہ  وہ ان لو گو ں  سے محبت کر نے  لگیں گے  جن کے با ر ے میں اللہ تعالیٰ ٰ نے فرما یا ہے:

﴿يـأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذوا عَدُوّى وَعَدُوَّكُم أَولِياءَ تُلقونَ إِلَيهِم بِالمَوَدَّةِ وَقَد كَفَر‌وا بِما جاءَكُم مِنَ الحَقِّ...١﴾... سورة الممتحنة

"مو منو ؛اگر  تم میر ی  را ہ میں لڑنے  اور میری  خوشنودی طلب کر نے  کے لئے  نکلے  ہو  تو میرے اور اپنے  دشمنوں  کو دوست  نہ بنا ئو  تم ان کو  دوستی  کے پیغا م  بھیجتے  ہو  اور وہ (دین) حق  سے جو تمہا رے  پا س آیا ہے منکر ہیں ۔"

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1 ص38

(0 ووٹس)
یہ مضمون مددگار رہا
یہ مضمون غیر مددگار رہا

[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)