فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8503
(169) عزو شرف اور کعبہ کی قسم کھانا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 15 December 2013 02:38 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا عزوشرف اورکعبہ کی قسم کھانا جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

غیر اللہ کی قسم کھانا جائز نہیں بلکہ یہ شرک ہے کیونکہ کسی چیز کی قسم کھانے کے معنی اس کی تعظیم کے ہیں۔اور  مخلوق کی تعظیم جائز نہیں شروع اسلام میں صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  کعبہ کی قسم کھایا کرتے تھے۔ تو نبی کریمﷺنے انہیں حکم دیاکہ کعبہ کی بجائے رب کعبہ کی قسم کھایاکرو۔ عزو شرف اور حسب ونسب یا باپ دادا وغیرہ کی قسم کھانا غیر اللہ کی قسم ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرماتے ہیں۔ کہ سیاہ رات میں سیاہ پتھر پر سیاہ چیونٹی کی آہٹ سے بھی زیادہ مخفی طریقے سے اس امت میں  شرک سرایت کر جائے گا۔ مثلا تم کسی خاتون سے یہ کہو کہ تمہاری زندگی کی قسم یا یہ کہو کہ میری زندگی کی قسم تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے زندگی کی قسم کو بھی شرک قرار دیا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم 

(0 ووٹس)
یہ مضمون مددگار رہا
یہ مضمون غیر مددگار رہا

[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)