فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8491
(157) سعادت وشقاوت کے معنی
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 15 December 2013 02:03 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں اس سعادت وشقاوت کے معنی کو واضح طور پرمعلوم کرنا چاہتا ہوں۔ جسے اللہ تعالیٰ ٰ انسان کے لئے اس وقت لکھ دیتا ہے جب وہ ابھی شکم مادر ہی میں ہوتا ہے نیز اس میں اور درج زیل آیات میں کس طرح تطبیق ہوگی:

﴿فَأَمّا مَن أَعطى وَاتَّقى ﴿٥ وَصَدَّقَ بِالحُسنى ﴿٦ فَسَنُيَسِّرُ‌هُ لِليُسر‌ى ﴿٧ وَأَمّا مَن بَخِلَ وَاستَغنى ﴿٨ وَكَذَّبَ بِالحُسنى ﴿٩ فَسَنُيَسِّرُ‌هُ لِلعُسر‌ى ﴿١٠﴾... سورة الليل

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

وہ سعادت اورشقاوت جسے اللہ تعالیٰ ٰ انسا ن کےلئے اس وقت لکھتا ہے جب وہ  شکم مادر میں ہوتا ہے۔اسے تو اللہ تعالیٰ ٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال قبل بھی لکھاتھا۔جیسا کہ حدیث میں ارشاد ہے کہ:

فان الله سبحانه وتعاليٰ حين خلق القلم قال له اكتب قال رب وما ذا اكتب؟قال اكتب ما هو كانن فجري في تلك الساعة بما هو كائن الي يوم القيامة (سنن ابي دائود ...ترمذي)

 اللہ سبحانہ وتعالیٰ ٰ نے جب قلم کو پیدا فرمایا تو اس سے کہا لکھ! قلم نے عرض کیا:''اے میرے رب میں کیا لکھوں؟'' اللہ تعالیٰ ٰ نے فرمایا جو کچھ ہونے والا ہے۔اسے لکھ دے تو قلم نے اسی وقت وہ سب کچھ لکھ دیا جو قیامت تک ہونے والا تھا۔''

قلم نے جو کچھ لکھا اس میں انسانوں کی سعادت وشقاوت (کا بیان) بھی ہے۔اور یہ ارشاد باری تعالیٰ ٰ:

﴿فَأَمّا مَن أَعطى وَاتَّقى ﴿٥ وَصَدَّقَ بِالحُسنى ﴿٦ فَسَنُيَسِّرُ‌هُ لِليُسر‌ى ﴿٧ وَأَمّا مَن بَخِلَ وَاستَغنى ﴿٨ وَكَذَّبَ بِالحُسنى ﴿٩ فَسَنُيَسِّرُ‌هُ لِلعُسر‌ى ﴿١٠﴾... سورة الليل

''تو جس نے (اللہ کےراستے میں مال) دیا اور پرہیزگاری کی اور نیک بات کوسچ جانا اس کوہم آسان  طریقے کی توفیق دیں گے۔اورجس نے بخل کیا اور بے پرواہ بنارہا اور نیک بات کو جھوٹ سمجھااسے سختی میں پہنچایئں گے۔''

کیونکہ بندے کایہ فعل سعادت یا شقاوت کا سبب بنتا ہے۔بندے پر فرض ہے کہ اسے ادا کرے جواللہ تعالیٰ ٰ نے اس پر فرض کیا ہے۔یعنی اس کے حکم کی اطاعت بجا لائے۔نہی سے اجتناب کرے۔ خیر کی تصدیق کرے۔بخل واستغناء اور اللہ تعالیٰ ٰ کی خبر کی تکذیب سے باز رہے۔نبی کریم ﷺ نے جب حضرات صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  کے سامنے یہ حدیث بیان فرمائی کہ اللہ  تعالیٰ ٰ نے  ہر انسان کی جنت یاجہنم میں جگہ کو لکھ رکھا ہے۔تو صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  نے عرض کیا:''یا رسول اللہ '' کیا اس تحریر پر توکل کرتے ہوئے ہم عمل کرنا چھوڑ نہ دیں؟''تو  آپ ﷺنے فرمایا:

اعملوا فل ميسر لما خلق له (صحيح بخاري)

''عمل کرو!ہر ایک کے لئے اسے آسان کردیا جائے گا۔جس کے لئے وہ پیدا ہوا ہے۔''پھر آپﷺ نے مذکورہ بالا آیات کی تلاوت  فرمائی۔

جب انسان کو توفیق ملے وہ سلامتی کی روش کو اختیار کرے امر کو بجالائے نہی کو ترک کردے جس کی تصدیق فرض ہے۔اس کی تصدیق کرے تو اسے آسانی کی توفیق میسر آجائے گی۔اور یہ اس بات کی دلیل اور عنوان ہوگی کہ وہ اہل سعادت میں سے ہے۔کیونکہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے۔اہل سعادت کو اہل سعادت کے سے عملوں کی توفیق مل جاتی ہے اور اگرصورت حال اس کے برعکس ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہے ککہ وہ شقی ہے ۔۔۔والعیاذ باللہ۔۔۔کیونکہ اس کے لئے اہل شقاوت کے عمل کو آسان بنا دیا گیا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم 

(0 ووٹس)
یہ مضمون مددگار رہا
یہ مضمون غیر مددگار رہا

[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)