فتاویٰ جات: علاج ومعالجہ
فتویٰ نمبر : 8488
(123) ڈاکٹروں سے علاج کی بابت اسلام کامؤقف
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 15 December 2013 01:52 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ڈاکٹروں سے علاج کرانے کے بارے میں اسلام کا کیا مؤقف ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حدیث میں آیا ہے کہ:

ما انزل الله داء الا انزل له شفاء(صحيح بخاري)

''اللہ تعالیٰ ٰ نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کی شفا بھی اتاری ہے۔''

جس نے اسے جان لیا اس نے جان لیا اور جس نے نہ جانا اس نے نہ جانا ڈاکٹروں نے ان دوائوں کے تجزیے کئے اور  ان  کتابوں سے استفادہ کیا ہے۔جنھیں علماء فن نے لکھا تھا۔ طب علم کے بہت سے فنون میں سے ایک فن ہے عہد نبوت سے پہلے اور میں بھی ہردور میں اس فن کے کچھ لوگ متخصص رہے ہیں۔جنھوں نے دوائوں کی ترکیب اور ہر دوا کے خاص اور کیفیت کے استعمال کو خوب جان لیا اور ساتھ ہی اعتقاد یہ رکھا کہ یہ اسباب شفاء ہیں۔مسبب الاسباب اللہ تعالیٰ ٰ کی ذات گرامی ہے۔ لہذا فن طب کی تعلیم حاصل کرنے اور اس کے ساتھ علاج کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ سائل کو چاہیے کہ وہ مذید معلومات کےلئے کتاب ''الطب نبوی'' حافظ ابن قیم ؒالطب النبوی علامہ ذہبی ؒ اور ''الاداب الرعیۃ''ابن مفلح کی اور کتاب تسہیل المنافع'' وغیرہ کامطالعہ کرے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1 ص38

(0 ووٹس)
یہ مضمون مددگار رہا
یہ مضمون غیر مددگار رہا

[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)