فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8483
(118) عوام الناس کی زبانوں پر بعض مشہور کلمات
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 15 December 2013 01:41 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم نے بعض کلمات عوام کی زبان سے سنے ہیں۔اورخدشہ ہے کہ کہیں ان میں شرک سرایت نہ کر گیا ہو یہ  کلمات اس طرح  کہ ہیں کہ(ما صدقت علی اللہ) میں اللہ تعالیٰ ٰ کی تصدیق نہیں کرتا۔۔۔یا(اللہ لا یقول لہ) اللہ تعالیٰ ٰ ایسا نہ کہے۔۔۔وغیرہ'تو اس طرح کے کلمات استعمال کرنے کے بارے میں آپ کی کیارائے ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس طرح کے کلمات قصد وارادہ کے بغیر عوام الناس کی زبانوں پر آجاتے ہیں۔اور وہ اس طرح کے کلمات ادا کرنے سے کسی حرام بات کااعتقاد نہیں رکھتے۔چھوٹے بچے بڑوں سے اس طرح کے کلمات سیکھ لیتے ہیں۔لیکن ان کلمات کے معانی ضرور قابل اعتراض ہیں لہذا انہیں بالکل استعمال نہیں کرنا چاہیے۔کیونکہ پہلے جملہ میں اللہ تعالیٰ ٰ کی تصدیق کی نفی ہے۔جب کے مومن اللہ تعالیٰ ٰ کی بھی تصدیق کرتا ہے۔اوران تمام باتوں کی بھی جن کی اللہ تعالیٰ ٰ نے خبر دی ہے لہذا اس کے بجائے یوں کہنا چاہیے۔اگر ''اس طرح ہوگیا یا وہ آگیا تو میں  سچا نہیں ہوں گا''اوراس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس چیز کے حصول میں میں جھوٹا ہوسکتا ہوں۔تاآنکہ وہ حاصل ہوجائے۔ اس طرح دوسرے جملہ میں گویا اللہ تعالیٰ ٰ کی ذات گرامی کو پابندکر تا ہے۔کہ وہ اس طرح نہ کہے گویاکہ وہ وقوع کی نفی مراد لیتے ہیں۔یعنی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ٰ اسے وقوع پزیر نہ کرے یا وہ اس طرح وجود میں نہ آئے۔اس لئے یہ کہنا کہ ''لاقدر اللہ''(اللہ ایسا نہ کرے)ا س میں بھی خطرناکی کا پہلو ہے۔اگر اس کی جگہ وہ اللہ سے دعا کرے کہ وہ اس کو واقع کرے اور نہ اسے پیدا کرے توزیادہ محتاط اور محفوظ بات ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1 ص38

(0 ووٹس)
یہ مضمون مددگار رہا
یہ مضمون غیر مددگار رہا

[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)