فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8451
(86) سالگرہ کی تقریب منانا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 30 November 2013 04:53 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ملک مصر میں یہ رواج ہے۔کہ جب کوئی شخص اپنی عمر کا ایک سال مکمل کرلیتا ہے۔تو وہ ایک تقریب کا اہتمام کرتا ہے۔ جسے تقریب سالگرہ کا نام دیا جاتا ہے۔میں نے سنا ہے کہ شرعی طور پریہ تقریب مناناجائز ہے تو کیا یہ واقعی ناجائز ہے؟ اور اگر دعوت ملے تو کیا اس قسم کی تقریب میں جانا جائز ہے یا نہیں؟اُمید ہے آپ مستفید فرما کرشکریہ کاموقعہ بخشیں گے!


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ ایک بُرا رواج اور بدترین بدعت ہے۔اللہ تعالیٰ ٰ نے اس کا حکم  نہیں دیا۔ عیدیں عبادات کی طرح توفیقی ہیں۔حدیث میں آیا ہے کہ اہل مدینہ زمانہ جاہلیت میں دو عیدیں منایا کرتے تھے۔جن میں وہ کھیلاکودا کرتے تھے۔تو اللہ تعالیٰ ٰ نے مسلمانوں کے لئے ان دو عیدوں کی بجائے عید الفطر اور عید الاضحیٰ کو مقرر کردیا جو کہ ہمارے لئے شرعی عیدیں ہیں۔ہماری شریعت میں چونکہ عید میلاد کا کوئی زکر مذکور نہیں حضرات صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  اور آئمہ سلف میں سے  بھی کسی نے اس کو نہیں منایا لہذا اسطرح کی تقریب کا اہتمام کرنا اس میں شرکت کرنا تقریب کا اہتمام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں سالگرہ کی مبارک باد دینا جائز نہیں ہے کیونکہ اس طرح امر منکر( برے کام) کی اعانت اور اس کی تایئد وحمایت ہوتی ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1 ص38

(0 ووٹس)
یہ مضمون مددگار رہا
یہ مضمون غیر مددگار رہا

[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)