فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8412
(47) ابلیس آج تک ہمارے درمیان زندہ ہے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 28 November 2013 11:28 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ابلیس ۔۔۔لعنۃ اللہ۔۔۔اب تک زندہ ہے یا مرگیا ہے؟کیا جن بھی اپنے  مردوں کو انسانوں کی طرح دفن کرتے ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ ٰ نے فرمایا ہے کہ ابلیس نے مہلت طلب کی جو اسے دے دی گئی جیسا کہ حسب زیل ارشاد باری  تعالیٰ ٰ میں ہے کہ:

﴿قالَ رَ‌بِّ فَأَنظِر‌نى إِلى يَومِ يُبعَثونَ ﴿٣٦ قالَ فَإِنَّكَ مِنَ المُنظَر‌ينَ ﴿٣٧﴾... سورة الحجر

''ابلیس نے کہا اے میرے پروردیگار مجھے اس روز تک کہ جب لوگ اٹھائے جایئں مہلت دے اللہ تعالیٰ ٰ نے فرمایا کہ تجھ کو مہلت دی جاتی ہے''

چنانچہ وہ اس یوم معلوم تک زندہ ہے۔جس میں اللہ تعالیٰ ٰ نے اس کی ہلاکت کا حکم دیاہے۔اور وہ دنیا میں سب سے آخر میں مرنے والا ہوگا۔جن ایسےارواح ہیں۔جو جسموں سے بے نیاز ہیں وہ فوت تو ہوتے ہیں لیکن ان کی تدفین ان کے حسب حال ہوتی ہے۔ہمیں ان کی صورتوں کی کیفیت اور انکی موت وتدفین کی حالت کا علم نہیں ہے کیونکہ ان کا  تعلق جنس بشر سے نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1 ص38

(2 ووٹس)
یہ مضمون مددگار رہا
یہ مضمون غیر مددگار رہا

[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)