فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8403
(69) زینت کے لئے مجسموں کا استعمال
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 28 November 2013 10:32 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

وہ مجسمے جو گھروں میں عبادت کے لئے نہیں بلکہ صرف زینت کے لئے رکھے جایئں ان کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تصویروں یا حنوط شدہ جانوروں کوگھروں دفتروں اور مجلسوں میں لٹکانا جائز نہیں ہے کیونکہ نبی کریمﷺ سے ثابت شدہ ان احادیث کے عموم کا یہ تقاضا ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں۔کہ گھروں وغیرہ میں تصویروں کا لٹکانا اور مجسموں کا رکھنا حرام ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ ٰ کی ذات  گرامی کے ساتھ شرک کا وسیلہ ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ ٰ کی صفت خلق کی مشابہت اور اس کے دشمنوں کے عمل کی پیروی ہے حنوط شدہ جانوروں کو گھروں  میں بطور زینت استعمال کرنے میں مال کا ضائع کرنا اللہ کے دشمنوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا اور مورتیوں اور مجسموں کے لٹکانے کے دروازہ کو کھولنا ہے اور ہماری مکمل  ترین اسلامی شریعت نے ان تمام زرائع کو بند کردیا ہے جو شرک یا گناہوں کی طرف لے جاتے ہیں

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم 

(0 ووٹس)
یہ مضمون مددگار رہا
یہ مضمون غیر مددگار رہا

[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)