فتاویٰ جات: ترجمہ قرآن
فتویٰ نمبر : 8369
(35) ارشاد باری تعالیٰ ٰ﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِ‌دُهَا﴾کے معنی
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 26 November 2013 03:42 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے سورہ مریم کی آیت۷۲،۷۱ کو پڑھا ہے جو کہ حسب زیل ہے۔

﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِ‌دُهَا ۚ كَانَ عَلَىٰ رَ‌بِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا ﴿٧١﴾ ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوا وَّنَذَرُ‌ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا﴾... سورة مريم

’’اور تم میں سے کوئی(شخص)نہیں مگر اسے اس پر گزرنا ہوگا،یہ تمہارے پروردگار پر لازم اور مقرر ہے۔پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔‘‘

میں ان آیات کریمہ خاص طور پر ان میں مذکور جہنم میں وار ہونے کے معنی معلوم کرنا چاہتا ہوں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رسول اللہﷺکی صحیح احادیث سے یہ ثابت ہے کہ اس ورود سے مراد اس پل صراط سے گزرنا ہے جسے اللہ تعالیٰ ٰ نے جہنم کی چھت پر نصب فرمایا ہے۔۔۔اللہ تعالیٰ ٰ ہمیں اور سب مسلمانوں کو جہنم سے بچائے۔اور جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے لوگ اپنے اعمال کے مطابق اس سے گزر جائیں گے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم 

(0 ووٹس)
یہ مضمون مددگار رہا
یہ مضمون غیر مددگار رہا

[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)