فتاویٰ جات: فتاوی اسلامیہ
فتویٰ نمبر : 8367
(2) مشرک کی طرف سے حج اور اس کے لئے مغفرت کی دعاء
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 26 November 2013 03:35 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص جس نے زندگی بھر کبھی نماز پڑھی نہ  روزہ رکھا اور جن پتھر درخت اور بتوں کے نام پر ذبح کرتا رہا اور  اسی حالت میں مرگیا تو کیا اس کے کسی رشتہ دار کے لئے اس کی طرف سے حج کرنا یا اسکے لئے مغفرت کی دعاء کرنا جائز ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جو شخص سوا ل میں مذکور حالت کے مطابق مرا ہو اسے شرک اکبرکا مرتکب سمجھا جائے گا۔اور ایسے شخص کی طرف سے حج کرنا یا اس کے لئے بخشش کی دعا کرنا جائز نہیں ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ٰ ہے:

﴿ما كانَ لِلنَّبِىِّ وَالَّذينَ ءامَنوا أَن يَستَغفِر‌وا لِلمُشرِ‌كينَ وَلَو كانوا أُولى قُر‌بى مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُم أَنَّهُم أَصحـبُ الجَحيمِ ﴿١١٣﴾...سورۃ التوبۃ

’’نبی(ﷺ)اورمومنوں کو یہ حق نہیں پہنچتاکہ وہ مشرکوں کے لئے اس بات کے واضح ہوجانے کے بعد کہ وہ دوزخی ہیں ،بخشش کی دعا کریں اگرچہ وہ (مشرک ،مومنوں اورنبیﷺ)کےقرابت دارہی کیوں نہ ہوں۔‘‘

اور حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«استاذنت ربي ان ازور قبر امي فاذن لي واستازنه ان استغفرلنا لها فلم باذن لي» (صحیح مسلم۔کتاب الجنائز باب الستیذان النبی ربہ فی زیارۃ قبر امہ ح:٢٢٥٨’٢٢٥٩)

'' میں نے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کے لئے اللہ تعالیٰ ٰ سے اجازت طلب کی تو اس نے مجھے اجازت عطا فرمادی اور میں نے مغفرت کی دعاء کرنے کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اس کی اجازت نہ دی۔''

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1 ص37

 

(0 ووٹس)
یہ مضمون مددگار رہا
یہ مضمون غیر مددگار رہا

[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)