فتاویٰ جات: فتاوی اسلامیہ
فتویٰ نمبر : 8366
(1) مشرک کے ذبیحہ کا حکم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 26 November 2013 03:30 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جو شخص مشرک کے ذبیحہ کو حلال سمجھے اور اس کے لئے درج زیل آیت سےاستدلال کی کوشش کرے۔

﴿فَكُلوا مِمّا ذُكِرَ‌ اسمُ اللَّهِ عَلَيهِ إِن كُنتُم بِـٔايـتِهِ مُؤمِنينَ ﴿١١٨﴾...سورة الانعام

''تو جس چیز پر (ذبح کے وقت)اللہ کا نام لیا جائے۔اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اسے کھا لیاکرو۔''

اور کہے کہ یہ آیت کریمہ محتاج تفسیر نہیں ہے۔اور کسی کی بات نہ سنے تو کیا وہ کافر ہوگا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جو شخص شرک اکبر کے مرتکب مشرک کے ذبیحہ کو اللہ  تعالیٰ ٰ کانام لینے کی وجہ سے حلال قرار دے تو وہ خطا کار ہے لیکن وہ کافر نہیں کیونکہ یہاں یہ شبہ موجود ہے۔کہ شاید وہ اللہ کے نام کی وجہ سے اسے حلال قرار دے رہا ہو۔البتہ مذکورہ آیت سے اس کا استدلال درست نہیں ہے۔کیونکہ آیت کے عموم کو مشرک کے ذبیحہ کی حرمت پر اجماع نے خاص کر دیا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1 ص37

محدث فتوی

(0 ووٹس)
یہ مضمون مددگار رہا
یہ مضمون غیر مددگار رہا

[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)