فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8260
(366) تیجانی فرقہ کی ’’صلاة الفاتح‘‘ کا حکم
شروع از بتاریخ : 14 November 2013 09:18 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

فرقہ تیجانیہ کے ہاں ایک دعا ہے جسے ’’صلاة الفاتح‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان کے خیال میں یہ دعا تلاوت قرآن مجید سے افضل ہے‘ کیا یہ صحیح ہے؟ اس کے علاوہ مغرب کی نماز کے بعد اور جمعہ کے دن فجر کی نماز کے بعد وہ دائرہ کی صورت میں بیٹھتے ہیں اور درمیان میں ایک کپڑا بچھاتے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کپڑے پر جناب رسول اللہﷺ اور احمد تیجانی بیٹھتے ہیں۔ اس وقت وہ دعا پڑھتے ہیں جو ’’صلاة الفاتح‘‘ کہلاتی ہے کیا یہ صحیح ہے؟ اور اس کی کیا دلیل ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

ان کا یہ دعویٰ جھوٹ ہے اور ان کا عمل باطل اور بدعت ہے1

’’الندرة العالمیہ للشباب الأسلامی‘‘ کی شائع کردہ کتاب ’’الموسوعة المسیرة فی الأدیان والمذاہب المعاصرة‘‘ میں لکھا ہے کہ اس فرقہ کے بانی احمد تیجانی کا دعویٰ ہے کہ نبیﷺ سے اس کی حسی اور مادی ملاقات ہوئی اور اس نے آپﷺ سے براہ راست بات چیت کی اور نبیﷺ سے یہ درود ’’صلاة الفاتح لما أغلق‘‘ سیکھا۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

  (اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدِ الْفَاتِح لِمَا أُغْلِقَ، وَالْخَاتَم لِمَا سَبَقَ، نَاصِرِ الْحَقَّ بِالْحَقِّ، الْھَادِي أِلٰی صِرَاطِکَ الْمُسْتَقِیمِ، وَعَلٰی آلِہِ حَقَّ قَدْرِہِ وَمِقْدَارِہِ الْعَظِیمِ)

’’اے اللہ! درود بھیج ہمارے سردار محمدﷺ پر‘ جو کھولنے والے ہیں اس چیز کو جو بند ہے اور ختم کرنے والے ہیں اس کو جو گزر چکا ہے‘ حق کے ساتھ حق کی مدد کرنے والے اور تیرے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دینے والے ہیں اور آپ کی آل پر (رحمت نازل فرما) جس طرح آپ کی قدر اور عظیم مقدار کا حق ہے‘‘

وہ کہتا ہے کہ اسے رسول اللہﷺ نے بتایا ہے کہ اس درود کو ایک بار پڑھنا چھ بار قرآن پڑھنے کے برابر ہے۔

وہ کہتاہے کہ اسے رسول اللہﷺ نے دوسری بار بتایا کہ ایک بار یہ درود پڑھنا‘ ہر چھوٹی بڑی دعا پڑھنے کے برابر ہے اور چھ ہزار بار قرآن پڑھنے کے برابر ہے‘ کیونکہ وہ اذکار میں سے ہے (الجواہر۱,۱۳۲)

اس کا یہ ثواب صرف اس شرط کے ساتھ ہوسکتا ہے کہ پڑھنے ولے کو اس کی اجازت حاصل ہو۔ یعنی اس اجازت کی نسبت تسلسل کے ساتھ احمد تیجانی تک پہنچے‘ جس نے (بزعم خویش) یہ درود جناب رسول اللہﷺ سے سیکھا ہے۔

یہ درود اسی طرح اللہ کا کلام ہے جس طرح احادیث قدسیہ ہوتی ہیں (الدرة الفرید ۴,۱۲۸)

جو شحص یہ درود صلاة الفاتح دس بار پڑھ لے تو اسے اتنا ثواب ملے گا کہ اگر کوئی عارف باللہ دس لاکھ برس زندہ رہے (اور عبادت میں مشغول رہے) اور یہ درود پڑھے‘ تو وہ اس ثواب کو نہیں پہنچ سکتا۔

جو شخص ایک بار یہ درود پڑھ لے‘اس کے گناہ معاف ہوجائیں گے اور کائنات میں کئے جانے والے ہر ذکر‘ دعا اور تسبیح کا چھ ہزار گنا ثواب اس کے نیکی کے وزن میں شامل ہوجائے گا۔ (دیکھئے کتاب :مشتہی الخارف للجانی صفحہ :۲۹۹۔ ۳۰۰)

راقم الحروف کہتاہے: ’’یہ باتیں پڑھ کر قرآن مجید کی یہ آیت سمجھ میں آتی ہے:

{فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُوْنَ الْکِتٰبَ بِاَیْدِیْہِمْ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ ہٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ لِیَشْتَرُوْا بِہ ثَمَنًا قَلِیْلاً } (البقرة۲,۷۹)

’’تباہی ہے ان لوگوں کے لئے جو اپنے ہاتھوں سے تحریر لکھتے ہیں ‘ پھر کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے‘ تاکہ اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت وصول کرلیں۔ ‘‘

اس فرقہ کے متعلق مجلس افتاء نے سابقہ فتوؤں میں تفصیل سے وضاحت کی ہے‘ اس کا مطالعہ مفید رہے گا۔

--------------------------------------

1مزید وضاحت کے لئے نام نہاد ’’صلاة الفاتح‘‘ کے بارے میں چند مزید گزارشات پیش خدمت ہیں :

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 228

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)