فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8251
(357) احمد بن محمد تیجانی :اور طریقئہ تیجانیہ کا ماخد علم
شروع از بتاریخ : 14 November 2013 08:55 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

احمد بن محمد تیجانی :اور طریقئہ تیجانیہ کا ماخد علم


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

نام احمد محمد بنن مختار بن احمد بن محمد تیجانی۔ ۱۱۵۰ھ میں ’’عین ماضی‘‘ نام کے گاؤں میں پیدا ہوا۔ اس کا دادا محمد ترک وطن کرکے اس گاؤں میں آیا تھا اور یہیں مستقل رہائش اختیار کرلی۔ یہاں اس نے قبیلہ ’’تجانی‘‘ یا ’’تجانا‘‘ کی ایک خاتون سے شادی کی جو اس کی اولاد کا ننھیال بنا اور وہ لوگ اسی قبیلہ کی طرف منسوب ہوئے۔ ابو العباس نے اسی بستی میں پرورش پائی اور قرآن مجید حفظ کیا۔ اس کے بعد طلب علم کے لے مختلف شہروں کا سفر کیا۔ اس سفر میں وہ مختلف صوفی مشائخ سے متاثر ہوا اور متعدد افراد سے بیعت کی۔ گھومتے پھرتے آخر کار وہ ’’ابو صیفون‘‘ میں پہنچا۔ وہاں سے اس نے یہ دعویٰ کیا کہ اسے ’’فتح‘‘ حاصل ہوگئی ہے اور اس نے خواب میں نہیں بلکہ عین حالت بیداری میں نبیﷺ کی زیارت کی ہے اور نبیﷺ نے اسے تمام انسانوں کی تربیت کی اجازت دی ہے اور اسے براہ راست آپﷺ سے طریقہ تصوف حاصل ہوا ہے اور آپﷺ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ تمام صوفیانہ طریقوں اور سلسلوں سے قطع تعلق کرلے جو اسے مختلف مشائخ تصوف سے حاصل ہوئے ہیں اور اصرف اسی طریقہ پر اکتفا کرے جو جناب رسول اللہﷺ نے بذات خود براہ راست زبانی طور پر اسے سکھایا ہے اور یہ کہ رسول اللہﷺ نے اس لئے کہ وہ وظیفہ مقرر کیا ہے جو اس وہ اپنے مریدوں کو سکھاتا ہے۔ یہ وظیفہ استغفار اور درود شریف پر مشتمل ہے۔ یہ چیز اسے ۱۱۹۶ھ میں حاصل ہوئی اور اس کی تکمیل صدی کے ختم ہونے پر سورت اخلاص کا وظیفہ حاص ہونے پر ہوئی۔ اس لئے اسے سلسلہ احمدیہ اور محمدیہ بھی کہا جاتا ہے اور سلسلہ تیجانیہ بھی‘ جو اس قبیلہ کی طرف نسبت ہے جس میں اس کے دادا محمد نے شادی کی تھی اور یہ لوگ اس کی طرف منسوب ہوئے۔

شہرت حاصل ہونے کے بعد احمد تیجانی نے دعویٰ کیا کہ وہ سید ہے اور اس کا سلسلہ نصب حضرت حسن بن علی بن ابن گواہی کی ضرورت محسوس کی۔ بلکہ اس نے دعویٰ کیا کہ بیداری میں نبی اکرمﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ اس وقت اس نے نبیﷺ سے اپنے نسب کے متعلق سوال کیا تو نبیﷺ نے فرمایا: ’’تو سچ مچ میرا بیٹا ہے۔ ‘‘ نبی علیہ السلام نے یہ الفاظ تین بار ارشاد فرمائے۔ پھر فرمایا: ’’حسن رضي الله عنه تک تیرا نسب صحیح ہے‘ مذکورہ بالا معلومات علی حراز کی کتاب ’’جواھر المعانی‘‘ کے پہلے باب اور عمر بن سعید فوتی کی ’’کتاب الرماح‘‘ کی آٹھائیسویں فصل میں مذکور بیانات کا خلاصہ ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ خلفائے راشدین یا دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی میں یہ ثابت نہیں … حالانکہ وہ لوگ انبیاء کرام رضی الله عنہم کے بعد ا للہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات میں بلند ترین درجہ کے حامل تھے… کہ ان میں سے کسی نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ اسے نبیﷺ کی زیارت بیداری میں ہوئی ہے اور یہ ایک بد یہی حقیقت ہے کہ شریعت رسول اللہﷺ کی حیات مبارکہ میں مکمل ہوگئی تھی اور رسول اللہﷺ کی وفات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس امت کا دین مکمل کر کے اپنی نعمت کی تکمیل فرمادی تھی۔ ارشاد ربانی تعالیٰ ہے:

{اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا} (المائدة۵,۳)

’’آج میں نے تمہارے لئے دین مکمل فرمادیا ہے اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی ہے اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین پسند فرمالیا۔ ‘‘

لہٰذا احمد تیجانی کا یہ دعویٰ کہ اس نے بیداری میں نبیﷺ کو دیکھا ہے اور آپﷺ سے بیداری میں براہ راست طریقہ تیجانیہ حاصل کیا ہے اور نبیﷺ نے خود یہ وظیفہ مقرر کیا ہے۔ جس کے ذریعہ وہ اللہ کا ذکر کرے اور درود پڑھے۔ یقینا اس کا یہ دعویٰ واضح گمراہی اور رسول اللہﷺپر ایک بہتان ہے۔

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 210

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)