فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8220
(326) اللہ سے براہ راست علم سیکھنے کا دعویٰ کرنا
شروع از بتاریخ : 13 November 2013 09:27 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا نبی یا رسول کے علاوہ کوئی انسان اس درجہ تک پہنچ سکتاہے کہ وہ رباہ راست اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کرے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

انبیاء ورسل رحمتہ الله علیہ کے علاوہ کوئی انسان ایسا نہیں جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبروں ا ور احکام پر مشتمل وحی براہ راست پہنچتی ہو۔ صرف سچا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ قرار دیا گیا ہے۔ جسے کوئی نیک آدمی دیکھتا ہے۔ یا جو کسی نیک آدمی کے لئے دیکھا جاتا ہے۔ وہ بھی صرف خواب میں نہ کہ بیداری‘ اسی طرح سچی فراست بھی الہام کا ایک حصہ ہے جس طرح حضرت عمر رضي الله عنه کو فراست صادقہ حاصل تھی۔ لیکن نبی اور رسول کے علاوہ کسی مومن کا خراب یا فراست اسلام میں شرعی احکام کا ثبوت نہیں کیا جاسکتا۔ الاّ یہ کہ اس خواب یا فراست کا اظہار کسی نبی یا رسول کو ہوا ہو۔ اسی لئے رسول اللہﷺ نے شرعی مسائل میں ان پر اعتماد نہیں کیا‘ حتیٰ کہ حضرت عمر رضي الله عنه کی فراست اور خوابوں پر بھی نہیں ‘ بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی وحی پر شرعی احکام کی بنیاد رکھی۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

فتویٰ (۳۵۴۴)

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 176

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)