فتویٰ نمبر : 8215
(321) تصوف اور صوفی کی وضاحت
شروع از بتاریخ : 13 November 2013 09:19 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

تصوف کا کیا مطلب ہے؟ اسلام میں ا س کا کیا مقام ہے؟ مثلاً طریقہ تیجانیہ‘ قادریہ‘ شیعہ وغیرہ۔ نائیجیریا ان ’’طریقوں ‘‘ کا مرکز بن گیا ہے۔ مثلاً طریقہ تیجانیہ میں ایک درود ہے جسے صلاة البکریة کہتے ہیں جو اس طرح شروع ہوتا ہے

(اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدَنَا مُحَمَّدٍ الْفَاتِحِ لِمَا أُغْلِقَ…… اور ان الفاظ پر ختم ہوجاتاہے حَقَّ قَدْرِہِ وةمِقْدَارِہِ الْعَظِیْم)

اس درود کو بہت اونچا مقام دیا جاتا ہے حتیٰ کہ درود ابراہیمی سے بھی افضل سمجھا جاتاہے۔ یہ بات ان کی کتاب ’’جواھرالمعانی‘‘ جز اول صفحہ ۱۳۶ پر موجود ہے۔ کیا یہ صحیح ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

لفظ ’’صوفی‘‘ کے متعلق ایک قول یہ ہے کہ یہ صفة کی طرف نسبت ہے۔ کیونکہ صوفیوں کی مشابہت ان صحابہ کرام سے ہے جو نادرا تھے اور مسجد نبوی میں صفہ (یعنی چبوترہ) پر رات گزارتے تھے۔ یہ قول صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ صفة کی طرف نسبت ’’صفتی‘‘ بنتی ہے۔ جس میں فاء پر تشدید ہے اور آخر میں یائے نسبت ہے اور اس میں واؤد موجود نہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کی نسبت صفرة کی طرف ہے جس سے ان کے دلوں اور عملوں کی صفائی کی طرف اشارہ ہے‘ یہ قول بھی غلط ہے کیونکہ صفرة کی طرف نسبت صفوی ہوتی ہے اور یہ بات اس لئیح بھی غلط ہے کہ انکے عقیدے میں خرابی پائی جاتی ہے اور اعمال میں بدعتوں کی کثرت ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ان کی نسبت صوف (یعنی اون) کی طرف ہے۔ کیونکہ ادنی لباس ان کی پہچان بن گیا تھا۔ یہ قول لغوی طور پر یہ بھی اور واقعہ کے اعتبار سے بھی نسبتاً زیادہ صحیح معلوم ہوتاہے۔ 1

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

فتویٰ (۷۱۴۰)

--------------------------------------

1تیجانیہ اور ان کی بدعتوں کے بارے میں آئنندہ اوراق میں الگ بات موجود ہے۔ اسے ملاحظہ فرمائیں۔

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 173

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)