فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8180
شہداء کے احترام میں خاموش کھڑے ہونا
شروع از بتاریخ : 13 November 2013 07:47 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا شہداء کیلئے ایک منٹ کھڑا ہونا جائز ہے؟ کیونکہ جب کوئی خاص تقریب شروع ہوتی ہے تو لوگ شہیدوں کی روحوں کے احترام میں یا اظہار افسوس کیلئے ایک منٹ خاموش کھڑے ہوتے ہیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شہداء یا سرداروں کے احترام میں یا ان کی ارواح کی عزت کرتے ہوئے یا ان پر اظہار افسوس کیلئے تھوڑی دیر خاموش کھڑا ہونابرابر ہے کیونکہ یہ ان بدعتوں میں شامل ہے جو نبی اکرمﷺ یا صحابہ کرامﷺ اوصحابہ کرام رضی الله عنہم کے زمانے میں موجود نہیں تھیں اور یہ توحید کے آداب اور اللہ تعالیٰ کی خالص تعظیم کے منافی ہے بلکہ دین سے ناواقف بعض مسلمانوں نے اس بدعت کو جاری کرنے والے کافروں کی پیروی میں اور ان کے اپنے زندہ اور مردہ مسرداروں کے بارے میں غلو پر مبنی بری رسموں کی پیروی میں اختیار کرلیاہے۔ حالانکہ نبیﷺ نے غیر مسلموں سے مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا ہے۔

اسلام میں فوت ہونے والوں کے جوحقوق معروف ہیں ‘ وہ یہ ہیں کہ فوت ہونے والے مسلمانوں کے لئے دعا کی جائے‘ ان کی طرف سے صدقہ کیا جائے‘ ان کی خوبیان بیان کی جائیں ‘ ان کی خامیوں کے بارے میں خاموشی اختیار کیا جائے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے آداب ہیں جو اسلام نے بیان کئے ہیں اور مسلمانوں کو اپنے زندہ اور مردہ بھائیوں کے ان حقوق کی پاسداری کی ترغیب دلائی ہے۔ ان آداب میں کسی سردار یا شہید کے لئے خاموش کھڑا ہونا شامل نہیں۔ بلکہ یہ اسلام کے اصولوں کے منافی ہے۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

فتویٰ(۴۸۸۹)

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 144

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)