فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 8177
(283) شکوک اور وساوس شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں
شروع از بتاریخ : 13 November 2013 07:38 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں ہمیشہ ایک مسلسل شک اور وسوسہ میں مبتلا ہوں۔ نماز میں بھی روزہ میں بھی‘ ایک احساس مسلسل مجھے چمٹا رہتاہے۔ بسا اوقات تو اللہ تعالیٰ کے وجو دکے بارے میں شک ہونے لگتا ہے اور یہ خیال آتا ہے کہ نماز بالکل بے کار چیز ہے۔ کیا وسوسہ جسمانی مرض ہے یا نفسیاتی؟ کیا اس صورت میں مجھے گناہ ہوتا ہے؟ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے میرا کیا مقام ہوگا؟ کیا مجھے اسلام میں اپنے اس مرض یعنی شک اور وسوسہ کا علاج مل سکتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ کو جو یہ شکوک اور وساوس پیش آتے ہیں یہ شیطان کی طرف سے ہیں ان پر توجہ نہ دیجئے۔ ان سے دھیان (توجہ) ہٹا لیجئے اور شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کیجئے۔ (اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم کہا کیجئے) اور یہ الفاظ بکثرت دہرائیے۔ آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرَسُولِہِ ’’میں اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتاہوں ‘‘اور شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کیجئے جس طرح نبیﷺ نے اس قسم کے وسوسوں میں مبتلاانسان کو تعلیم دی ہے۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ

اللجنة الدائمة۔ رکن: عبداللہ بن قعود، عبداللہ بن غدیان، نائب صدر: عبدالرزاق عفیفی، صدر عبدالعزیز بن باز

 

 

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلددوم -صفحہ 139

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)